عراق: سیاسی جماعتوں کی نامزد وزیراعظم کے متبادل پر مشاورت

213

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق میں سیاسی بحران ختم کرنے کے لیے صدر برہم صالح کی جانب سے مشکوک انداز میں پارلیمان میں صرف 2 نشستیں رکھنے والی جماعت النصر سے وابستہ عدنان الزرفی کو کابینہ تشکیل دینے کا کہا گیا ہے۔ صدر کے اس فیصلے پر ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ سیاسی جماعتوں نے الزرفی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ اجلاس میں ان کے متبادل کے طور 3 ناموں پر اتفاق کیا ہے، تاہم انہیں تاحال منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ اس حوالے سے سیاسی جماعت ’حکمت ملی‘ کے سربراہ عمار الحکیم کی رہایش گاہ پر ہونے والے اجلاس کے بعد سیاسی جماعتوں کے اتحاد الفتح کے نمایندے مختار الموسوی نے کہا ہے کہ شیعہ سیاسی جماعتوں نے الزرفی کو برطرف کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ انہوں نے خبر رساں ادارے العہد کو بتایا کہ جماعتوں نے وزرات عظمی کے لیے 3 ناموں پر اتفاق کرلیا ہے جن میں ایک کو کابینہ بنانے کی دعوت دی جائے گی۔ واضح رہے کہ اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے مختلف دھڑوں نے شرکت کی تھی جن میں دولت قانون، الفتح، صادقون اور السند الوطنی شامل ہیں۔ دریں اثنا عراقی مبصرین اور سیاسی جماعتوں نے الزرفی کو امریکی مفادات کا محافظ قرار دیا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر صالح کی جانب سے الزرفی کو ذمے داری دینے کے فورا بعد امریکا کی طرف سے حمایت کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا عراق میں حلیف حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوگیا ہے۔