ایران کے لیے جاسوسی پر جرمن فوج کے مترجم کو سزا

168

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمن فوج کے ایک افغان نژاد سابق مترجم کو ایران کے لیے جاسوسی کے جرم میں سزائے قید سنا دی گئی ہے۔ قانون کے تحت حکام نے مجرم کا پورا نام ظاہر کرنے کے بجائے صرف پہلا نام بتایا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق عبدل پر الزام تھا کہ وہ جرمنی کے عسکری راز ایرانی انٹیلی جنس کو بیچتا رہا تھا اور جرم ثابت ہونے پر کوبیلنس شہر کی ایک عدالت نے سابق عسکری اہل کار کو 6 سال 10 ماہ کی سزائے قید سنائی ہے، جب کہ عدالت نے اس کی بیوی آسیہ کو بھی 10 ماہ کی سزائے قید کا حکم سنایا ہے۔ مجرمہ آسیہ کے خلاف لگایا گیا الزام بھی ثابت ہو گیا تھا کہ اس نے ایرانی انٹیلی جنس کے لیے جاسوسی کے عمل میں اپنے شوہر کی معاونت کرتے ہو ئے اسے عملی مدد فراہم کی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وفاقی جرمن فوج کے ایک سول ملازم کے طور پر عبدل نے اپنی پوزیشن اور فرا ئض کا غلط استعمال کیا اور یہ ملک سے غداری کا ایک سنگین معاملہ ہے۔ واضح رہے کہ جرمنی میں غداری کے جرم میں کسی بھی مجرم کو عام طور پر کم از کم 15 برس قید کی سزا سنائی جاتی ہے، تاہم عدالت نے عبدل اور اس کی اہلیہ نسبتاً کم مدت کی قید کی سزائیں سنائیں کیوں کہ انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا اور ان کا ماضی میں کسی طرح کے جرائم کے ارتکاب کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں تھا۔ جرمن فوج سے متعلق خفیہ معلومات اور ریاستی راز منظر عام پر آنے سے روکنے کے لیے اس مقدمے کی سماعت بند کمرے میں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق عبدل نے مختلف یورپی شہروں میں ایرانی سیکرٹ سروس کے ساتھ رابطے قائم کر رکھے تھے۔ اس نے ایرانی انٹیلی جنس کو 2013ء اور 2017ء کے درمیانی عرصے میں کئی بار خفیہ معلومات مہیا کیں۔