کورونا تضادات اور کورونا پالیٹکس

268

کو رونا سے متعلق نئی نئی باتیں سامنے آتی ہیں لوگ پریشان ہیں کون سی درست ہے کون سی غلط۔
پہلی اطلاع۔ یہ وائرس انسانی ہے ۔
دوسری اطلاع ۔یہ جانوروں والا ہے ۔
پہلی اطلاع یہ فضا میں سفر نہیں کرتا اس کی زندگی
مختصر ( چند سیکنڈ) ہوتی ہے۔
دوسری اطلاع ۔یہ لوہے اور شیشے پر بارہ گھنٹے زندہ رہتا ہے۔ پہلی اطلاع
یہ وائرس 22 درجے سینٹی گریڈ تک ختم ہوجاتا ہے ۔
دوسری اطلاع ۔یہ ستائیس درجے پر ختم ہوتا ہے تیسری اطلاع ۔
یہ اٹھائیس تیس درجے پر مر جاتا ہے ۔
پہلی اطلاع پہلے بارہ دن اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں پھر اچانک سب خراب ہو جاتا ہے ۔
دوسری اطلاع ۔ائرپورٹ اور سرحد پر چیکنگ کرتے ہی کو رونا کی تصدیق فوراً ہو جاتی ہے۔ وہ پھیلنے اور خوف پھیلانے کے بعد۔
پہلا حکم عوام گھروں سے نک محدود رہیں۔۔۔۔ لیکن صدر وزیر خارجہ چین ہی چلے گئے۔
دوسری اطلاع یا فیصلہ لوگ گھروں میں رہیں اور ایران سے زائرین کو لانے کے لیے جہاز کا انتظام ۔
پہلی اطلاع ۔حدیث کے مطابق وبا کے موقع پر وہاں جانا یا آنا نہیں چاہیے اس لیے چین سے پاکستانی بچے نہیں لائے جائیںگے ۔
دوسری اطلاع ۔ایران سے مریض براہ راست کراچی لائے جائیں گے۔
ایک اطلاع ۔وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے لاک ڈائون نہیں کریں گے۔
دوسری اطلاع ۔دفاتر بند اسکول بند پارک بند، شادی ہالز بند، پانچ افراد کا اجتماع بند، پی ایس ایل بند، ٹرینیں بند، مزدور بند، بسیں بند، بس چلے تو مسجد بھی بند ۔
ایک اوراطلاع سندھ میں لاک ڈائون کر دیا گیا۔
وائرس سے لاکھوں لوگ مر سکتے ہیں
دوسری اطلاع چین نے اچانک قابو پا لیا صرف چند ہزار مرے،
ابتدائی اطلاع ۔ ہاتھ ملانے یا چھینک اور کھانسی سے وائرس منتقل ہوتا ہے۔اورکروڑوں ماسک بیچنے کے بعد ۔
نئی اطلاع ۔یہ وائرس ایک میٹر کے فاصلے سے بھی لگ جاتا ہے
ایک اعلان۔ حکومت کے ساتھ تعاون کریں قرنطینہ میں رضاکارانہ طور پر آجائیں کوئی مریض علم میں ہو تو اس کی اطلاع دیں۔
دوسری خبر۔ قرنطینہ میں گندگی کے ڈھیر کچرا ہی کچرا چائے بسکٹ کے اسٹال باتھ روم کی جگہ قنات بندھی ہوئی اور اس میں سے غلاظت اور پانی بہ رہاہے ۔
پھر سوشل میڈیا ٹیم حرکت میں آئی۔
نئی خبر ایک بچے کی طرح سبق دہرایا جا رہا ہے۔
ہمارا کورونا سینٹر قرنطینہ بہترین ہے، یہاں ہمارا بہت خیال رکھا جارہا ہے ، کھانا وقت پر ملتا ہے ، سب بہت خیال رکھتے ہیں !!! اور تو اور بستر بھی صاف ستھرا ہے۔۔۔سامنے کھڑے عمران خان سب کچھ سن کر مسکراتے ہیں پھر اسکرپٹ والے حد ہی کردی کورونا کے مریضوں نے زور دار نعرہ لگایا ! ہمارے وزیر اعظم عمران خان زندہ باد !! اسکرپٹ مکمل ۔
ایک دلچسپ مشاہدہ! پورا ملک لاک ڈائون ہے لیکن کچرا ہر جگہ ان لاک ہے خصوصی طور پر کراچی کا کچرا پکا پکا آزاد ہے کچرے کو کون لاک ڈائون کرے گا،
اب آئیے کورونا پولیٹکس کی طرف ۔
یہ مرکزی حکومت کی نا اہلی سے پھیلا ، شہباز شریف
پی ٹی آئی کے اقدامات مناسب نہیں، بلاول زرداری
اپوزیشن حکومت کو بدنام کر رہی ہے کورونا پر سیاست کرتے شرم نہیں آتی ، فردوس عاشق اعوان ۔۔ بس نہیں چلا کہ کورونا کا ذمے دار بھی شریف خاندان کو قرار دے ڈالتیں !!! شہباز شریف لندن سے بیانات دے رہے ہیں کہ حکومت نالائق ہے پھر پاکستان آئے تودائیں بائیں پیچھے50 ہزار کا ہجوم تھا وہ ماسک بھی نظر آئے، قرنطینہ کہاں گیا۔
پی پی اور پی ایم ایل والے کچھ دن قبل کہ رہے تھے کہ ہمارے لیڈر کو قید کے دوران کچھ ہوا یعنی موت آئی تو حکومت ذمے دار ہوگی۔ اب پورا پاکستان قید (لاک ڈائون ) ہے اس کے باشندے خطرے میں ہیں انہیں کچھ ہوا تو کون ذمے دار ہوگا ؟؟
یہ تو پاکستانی پولیٹکس ہے۔
چین پریشان ہوا تو اس نے امریکا پر وائرس پھیلانے کا الزام لگا دیا چین کی پریشانی کم ہوئی تو امریکی صدر ٹرمپ نے الزام دھر دیا کہ یہ چائنیز وائرس ہے ان پر تنقید ہوئی تب بھی وہ موقف پر ڈٹے رہے کہ وائرس چین سے آیا ہے تو چینی ہی قرار پائے گا !!! بات تو درست ہے وائرس جہاں سے آیا اسی کے نام پر ہوگا، تو پھر ایچ آئی وی (ایڈز) امریکی بیماری ہے اور بھی بہت سی بیماریاں۔ ۔ ۔ ۔
بیماریوں کو چھوڑیں ایٹم بم کس نے مارا تھا ؟؟ پھر یہ امریکی بم ہی ہے ناں !!!
دنیا بھر میں اپنی فوج اتارنے کی بیماری بھی امریکی ہے۔
یہ بین الاقوامی سیاست تھی۔ اب دیکھیں معاشی سیاست۔ چین کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس نے اس میںبھی سیاست دکھائی۔ جب ساری دنیا کی مارکیٹوں میں شیئرز کی قیمت گر گئی تو چین نے سب کے شیئرز خرید لیے اور اب کورونا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ لیجیے دنیا لاک ڈائون کر دی ہے اور چین نے لاک ڈائون ختم کر دیا۔ اور دنیا کو لاک ڈائون کے مشورے دیے جا رہے ہیں۔ ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس امر کی تصدیق کا کیا طریقہ ہے کہ جن لوگوں کو کورونا کامریض قرار دیا جا رہا ہے وہ تشخیص درست ہے یا نہیں۔ اسی طرح ٹی وی چینلز پر قسم قسم کے ماہرین تشریف لا رہے ہیں اور خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔کوئی ڈاکٹر نسیم صلاح الدین صاحبہ تشریف لائیں اور ہندوستان کے کسی ماہرین کے فار مولے کو پاکستان پر منطبق کرنے کوشش کی ہے جس کی رو سے پاکستان میں بھی کئی لاکھ لوگوں کے مرنے کی پیشگوئی کی جا رہی تھی۔ جب وزیر اعظم یہ کہہ رہے تھے کہ کورونا کے مقابلے میں گھبراہٹ اور افرا تفری سے زیادہ خطرہ ہے ، تو انہوں نے پیمرا کو ہدایات کیوں نہیں دیں کہ خوفزدہ کرنے والے بیان نہ چلائیں۔ ٹی وی کا تو یہ حال ہے کہ لاک ڈائون کی خبروں کو سنایا نہیں جا رہا بلکہ منایا جا رہا ہے۔ ڈھول ، موسیقی اور چیخ چیخ کر اعلان کیا جا رہا ہے کہ پنجاب میں بھی لاک ڈائون۔ ۔۔۔ کوئی ان ٹی وی چینلز کو’’ لاک ڈائون‘‘ منانے سے تو روکے۔ ایک اور اہم پہلو ہے کہ اس بات کا فیصلہ کون کر رہا ہے یا کروا رہا ہے کہ کب کیا کرنا ہے۔ کیونکہ جو کام ایک ساتھ ہو سکتا تھا وہ ٹکڑوں میں کیوں ہو رہا ہے اس کا بہت واضح مطلب ہے کہ اس کے ذریعے روزانہ نئی خبر روزانہ ٹی وی چینلز اور اخبارات میں ہنگامہ مچایا جائے۔ خوف کون پھیلا رہا ہے۔ ذرا سوچیں۔