بے بسی نے بے حسی بے نقاب کردی

676

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات اور نقصانات سے بچنے کے لیے دنیا کی تمام تر توجہ مرکوز کرانے کی خاطر تمام محاذوں پر جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کی یہ اپیل عالمی ادارے کی بے بسی اور عالمی طاقتوں کی بے حسی کا اعتراف ہے۔ چوں کہ عالمی طاقتیں کورونا کے سامنے خود بے بس ہوگئی ہیں ان کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ کیا کریں۔ ترقی یافتہ ملک ہو یا ترقی پزیر، تمام سہولتوں سے آراستہ ہو یا محروم سب کے سب کورونا کے سامنے بے بس ہیں۔ لہٰذا بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان بچانے کی خاطر دنیا بھر میں جنگ کے محاذوں پر جنگ بندی کی اپیل کی گئی ہے۔ اگر یہ اپیل دنیا بھر کے لوگوں کی جان بچانے کے لیے کی گئی ہے تو جن ملکوں میں یہ عالمی طاقتیں جنگ میں مصروف ہیں۔ انہوں نے صرف ایک برس میں ان جنگوں کے ذریعے اتنے لوگ مار دیے ہیں کہ اگر کورونا کو آزاد بھی چھوڑ دیا جائے تو یہ اتنے لوگ نہیں مار سکتا جتنے جنگوں کے سوداگروں نے مار ڈالے ہیں۔ بے حسی کی انتہا ہے جب اپنی موت سامنے نظر آئی تو جنگیں روکنے کی اپیل کردی۔ سوال یہ کہ جو ممالک جنگوں میں مصروف ہیں شام میں کئی کئی ممالک حملہ آورہیں، یمن میں کئی ممالک ہیں۔ لیبیا میں جنگ ہورہی ہے۔ فلسطینیوں پر فوج مسلط ہے۔ کشمیر میں 8 لاکھ بھارتی فوج ہے۔ کیا یہ سب ایک ایک میٹر کے فاصلے پر بیٹھے ہیں۔ کیا اسرائیلی فوج کی ایک بکتر بند گاڑی میں ایک فوجی بیٹھتا ہے۔ کیا ان کو کورونا کا خوف نہیں ہے۔ پوری دنیا میں فوجی متجمع ہو کر نہتوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ انسانیت اس اپیل پر شرمانے کے بجائے مرجائے تو اچھا ہے۔ جنگوں کے ان سوداگروں نے لاکھوں لوگوں کو قتل کر ڈالا ہے جن کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ ایسے حکمرانوں کی رعایا ہیں جن کے ان بڑی طاقتوں سے اختلافات ہیں یا وہ ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں تیل کی دولت ہے یا ان کا ملک گرم پانیوں کے راستے میں ہے یا کسی معاشی بین الاقوامی گزرگاہ ان کے ملک کے ساتھ ہے۔ عوام تو ہر طرح بے قصور ہیں۔ اقوام متحدہ کو اگر یہ یاد آگیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے جنگیں بند کی جائیں تو وہ کورونا کی وجہ سے ہی سہی فلسطینیوں کا محاصرہ ختم کرائے۔ غزہ کا لاک ڈائون ختم کرائے۔ ایک کروڑ کشمیریوں کا سات ماہ سے جاری لاک ڈائون ختم کرائے۔ کشمیری تو دو طرح کے عذاب میں ہیں۔ ایک تو ان پر ظالم بھارتی فوجی درندے مسلط ہیں اور مسلسل لاک ڈائون کی وجہ سے وہ خوراک اور دوائوں کی قلت کا بھی شکار ہیں اور طبی مسائل کا بھی۔ اقوام متحدہ جنگ بندی بھی کروائے لیکن اسرائیل، امریکا اور بھارت کو بھی مجبور کرے کہ مظلوم لوگوں کا لاک ڈائون بند کریں۔ امریکا نے ایران پر پابندیاں لگا رکھی ہیں، ایران تو کہہ رہا ہے کہ امریکا پابندیاں ہٹائے ہم خود کورونا پر قابو پاسکتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ پاکستان اور دیگر کئی ممالک تک کورونا پھیلانے میں ایرانی زائرین ہی سبب بنے ہیں۔ اگر اقوام متحدہ کو انسانیت کی فکر ہے تو دنیا میں جہاں جہاں مظلوموں کا لاک ڈائون ہے اسے ختم کرائیں، جنگیں ختم کروائیں بند نہیں۔ جنگ بندی کا مطلب تو چند روز کی جنگ بندی ہے۔ پھر شروع ہوجائے گی اور بسااوقات تو جنگ بندی کے باوجود ایک نہ ایک فریق حملے جاری رکھتا ہے۔ لہٰذا اقوام متحدہ جنگوں کو ختم ہی کرائے۔ دنیا بھر کے جنگجو ممالک کی افواج کو ان کے اپنے اپنے ملک واپس بھیجا جائے۔