سندھ میں لاک ڈاؤن سخت، میڈیکل اسٹور کے سوا تمام دکانیں رات 8بجے بند ہوں گی

245
کراچی: لاک ڈائون کے دوران پولیس شارع فیصل پر گزرنے والوںسے پوچھ گچھ کررہی ہے

کراچی/لاہور/اسلام آباد/کوئٹہ/پشاور/ ریاض/تہران/لندن/نئی دہلی/واشنگٹن(اسٹاف رپورٹر+نمائندگان جسارت+خبرایجنسیاں) کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پاکستان بھر میں ٹرینیں اور پروازیں معطل کردی گئیں ہیں جب کہ سندھ میں لاک ڈاؤن پلان کو تبدیل کرتے ہوئے اسے مزید سخت کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وزارت ریلوے نے ملک بھر میں مسافر ٹرین آپریشن 31 مارچ تک کے لیے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریلوے ہیڈ کوارٹر میں وزیر ریلوے شیخ رشید، چیئرمین حبیب الرحمن، سی ای او ریلوے دوست علی لغاری، چیف آپریٹنگ آفیسر عامر بلوچ سمیت دیگر افسران نے وڈیو لنک کانفرنس میں شرکت کی جس میں مسافر ٹرینوں کی مکمل بندش کا فیصلہ کیا گیا تاہم اس عرصے میں صرف مال بردار ٹرینیں چلیں گی جب کہ ٹرین آپریشن بند ہونے کے باوجود ملازمین کی چھٹی نہیں ہوگی۔وزارت ریلوے کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جن مسافروں نے مختلف ٹرینوں سے بکنگ کروائی ہوئی تھی ان کو پورا کرایہ واپس کیا جائے گا۔علاوہ ازیں اندرون ملک تمام پروازیں پروازیں 26 مارچ کی صبح 6 بجے سے 2 اپریل کی صبح 6 بجے تک معطل رہیں گی۔ اس پابندی کا اطلاق چارٹر اور نجی پروازوں پر بھی ہوگا تاہم اس کا اطلاق کارگو اور خصوصی پروازوں پر نہیں ہوگا۔ ادھر سندھ میں لاک ڈاؤن کے مؤثرنتائج سامنے آنے اور24 مارچ کو کورونا کے صرف 8 کیس سامنے آنے کے بعد حکومت سندھ نے لاک ڈاؤن کومزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کراچی سمیت صوبے بھرمیں لاک ڈاؤن کومؤثربنایا جائے اورمیڈیکل اسٹورز کے سوا کریانہ اسٹور سمیت تمام دکانیں رات 8 بجے سے صبح8 بجے تک بند رہیں گی،اسپتال 24 گھنٹے کام کرتے رہیں گے ۔وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے بینکنگ سیکٹرز سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام برانچزکھولنے کے بجائے ضروری برانچزکھولیں اورمحدود عملہ طلب کیا جائے۔ صوبائی وزیراطلاعات ناصرحسین شاہ نے بتایا کہ غذائی اشیاء اورضروریات زندگی کا سامان فروخت کرنے والی دکانیں اوربڑے اسٹوراب 12 گھنٹے سے زائد کھلے نہیں رہیں گے۔ ان کا کہنا تھاکہ وزیر اعلیٰ سندھ عوام تک مالی مدد اور راشن پہنچانے کے لیے کمیٹی بنا دی ہے، حکومت نے جو بھی سخت فیصلے کیے ہیں وہ صرف اور صرف عوامی مفاد میں کیے ہیں۔علاوہ ازیں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسن شاہ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے سندھ میں لاک ڈاؤن کیا تھا، اکثر سیاسی جماعتوں کی رائے تھی کہ کرفیو لگایا جائے، ایک آدھ دن اور دیکھتے ہیں ورنہ کرفیو کی طرف جانا پڑے گا۔ان کا مزیدکہنا تھا کہ ہمیں متحد ہوکر اپنے صوبے کیلئے اپنے ملک کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے تاکہ جلد از جلد ہم اس آزمائش کی گھڑی سے باہر نکل سکیں۔علاوہ ازیں پنجاب میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت کے بعد پاکستان میں اب تک جاں بحق ہونے و الے افراد کی تعداد 7 ہوگئی ہے جب کہ مجموعی طور پر کیسز کی تعداد 961 ہوگئی ہے۔منگل کو ملک میں مجموعی طور پر 77 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے خیبرپختونخوا میں 40، پنجاب میں 21 اور سندھ میں 16 افراد میں مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ مہلک وائرس سے اب تک 20 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں جن میں سے 14 کا تعلق سندھ، 4 کا گلگت بلتستان اور 2 کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ منگل کو پنجاب میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت سامنے آئی جہاں لاہور کے میو اسپتال میں 57 سالہ مریض انتقال کرگیا۔وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے صوبے میں وائرس سے پہلی ہلاکت کی تصدیق کی۔اس سے قبل خیبرپختونخوا میں3، بلوچستان، گلگت بلتستان اور سندھ میں ایک ایک مریض جاں بحق ہوا ہے۔ سندھ حکومت کے سخت اقدامات کے باعث کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں واضح کمی ہوئی ہے۔ ادھر پنجاب کابینہ نے کورونا آرڈیننس کی منظوری دے دی جس کے تحت کسی بھی شخص کو گھر میں مقررہ وقت تک رہنے کا پابند کیا جاسکے گا، خلاف ورزی کرنے والے کو 10 سے 50 ہزار روپے جرمانہ یا 6 ماہ تک قید کی سزا ملے گی۔صوبے میں 9 ماہ تک بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ تعلیمی ادارے 31 مئی تک گرمیوں کی تعطیلات کے لیے بند رہیں گے۔علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے محکمہ صحت کو 11 ارب روپے جاری کردیے۔وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق 10 ہزار نئے ڈاکٹر، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف بھی بھرتی کیا جائے گا جبکہ وزیراعلیٰ اور کابینہ کی ایک ماہ کی تنخواہ کورونا فنڈ میں جمع کی جائے گی۔دوسری جانب دنیابھر میں کورونا وائرس سے اموات 18ہزار 274ہوگئیں جب کہ 4لاکھ 9ہزار 327افراد متاثر ہیں۔ منگل کو سب سے زیادہ ہلاکت اٹلی میں 743 رپورٹ کی گئی ہے ، 24گھنٹوں میں اسپین میں 489، ایران میں 122، برطانیہ میں 87،امریکا میں 69،نیدرلینڈ میں 63اور جرمنی میں 26اموات ہوئی ہیں۔سعودی عرب میں پہلی ہلاکت کے بعد 21روز کے لیے کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ادھر بھارتی وزیراعظم نے بھی ملک بھر میں 21روز کے لیے لاک ڈاؤن کی کال دے دی ہے۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کورونا وائرس کا اگلا مرکز ہوسکتا ہے۔