ترقی پذیر ممالک سے قرضوں کا بوجھ کم کیا جائے، شاہ محمود

92

اسلام آباد (اے پی پی) کورورنا وائرس کے عالمی وبائی چیلنج کے تناظر میں ترقی پذیر ممالک کو شدید معاشی مسائل درپیش ہیں، ایران پر عاید معاشی پابندیوں کے خاتمے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال کی طرف اقوام عالم کی توجہ مبذول کروانے کے لیے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے یورپی یونین کو لکھے گئے اپنے خط میں کہا ہے کہ ہم سب آگاہ ہیں کہ کورونا وائرس ایک عالمی وباء کی شکل اختیار کرچکا ہے جس سے دنیا کا تقریبا ًہر ملک ہی متاثر ہے، پوری انسانیت کے لیے یہ انتہائی مشکل وقت ہے لہٰذا یہ انتہائی اہم ہے کہ عالمی برادری اس عفریت سے نمٹنے میں ہاتھ بٹائے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کورونا انسانیت کے لیے ایک بحران ہے اور اس کے اثرات خاص طورپر ترقی پذیر ممالک کے لیے تباہ کن ہیں کیونکہ انہیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور ان میں نادار طبقات موجود ہیں۔ ان طبقات کا کورونا سے سب سے زیادہ نشانہ بننے کا خدشہ ہے۔ وزیر خارجہ نے یورپی یونین کی توجہ بطور خاص 2 معاملات کی جانب مبذول کرائی اورکہا کہ پہلا معاملہ ایران سے متعلق ہے جو اس وقت عاید پابندیوں کی بناء پر کورونا کی وباء پر موثر انداز میں قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا۔ بلاشبہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ عالمی برادری ایران میں قیمتی انسانی جانیں بچانے کے لیے مطلوبہ انسانی معاونت کے لیے ہنگامی اقدامات کرے گی۔ دوسرا ترقی پذیر ممالک پر سے قرض کا بوجھ کم کیا جائے تاکہ ترقی پذیر ممالک اپنے وسائل انسانی جانیں بچانے اور معاشی بدحالی کی بہتری کے لیے بروئے کار لاسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ کورونا وائرس کے واقعات نے اس میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ کشمیریوں پر عاید قدغنیں فوری ختم کی جائیں تاکہ طبی اور دیگر ضروری سپلائیز کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی مالدیب کے وزیر خارجہ عبداللہ شاہد سے ٹیلی فونک گفتگومیں کہا کہ پاکستان، مالدیپ کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے ،کوروناکے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مالدیپ کی طرف سے کیے گئے اقدامات قابل تعریف ہیں ،توقع ہے مالدیپ جلد اس وبا پر قابو پالے گا۔ وزیر خارجہ نے مالدیپ کے وزیر خارجہ سے مالدیپ میں پھنسے ہوئے 4 پاکستانیوں کی معاونت کی درخواست کی تاکہ انہیں پاکستان واپس لایا جا سکے۔