پنگریو گرڈ اسٹیشن سے منسلک دیہات میں22 گھنٹے طویل لوڈشیڈنگ

159

پنگریو (نمائندہ جسارت) حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی حیسکو کی جانب سے پنگریو گرڈ اسٹیشن سے منسلک چار سو سے زائد دیہات اور قصبوں میں بجلی کی بدترین اور طویل غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھا کر بائیس گھنٹے کردیا گیا ہے، جس کی وجہ سے پورے علاقے میں معمولات زندگی متاثر ہو کر رہ گئے ہیں، حیسکو پنگریو کے عملے نے موجودہ ہنگامی حالات میں چیف ایگزیکٹو حیسکو اور وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے احکامات کے باوجود نہ صرف لوڈشیڈنگ جاری رکھی ہوئی ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی کردیا ہے، بجلی کی طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث علاقے کے فراہمی آب کی پمپنگ مشینیں بند ہوگئی ہیں، جس کی وجہ سے علاقے میں پینے کے پانی کا سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے، بجلی کے تعطل اور پانی کی عدم دستیابی کے باعث لوگوں کا گھروں میں رہنا محال ہوگیا ہے اور لاک ڈائون کے باوجود لوگ گھروں سے باہر وقت گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں، حیسکو پنگریو کے عملے کے مطابق انہیں افسران بالا کا حکم ہے کہ دیہات کی بجلی مکمل بند رکھی جائے اور گریڈ اسٹیشن کے میٹر کی ریڈنگ ایک حد سے نہ بڑھنے دی جائے۔ افسران کے احکامات پر دیہات کی بجلی منقطع کی گئی ہے، علاقے کی سیاسی اور سماجی تنظیموں نے موجودہ ہنگامی حالات میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافے پر شدید احتجاج کیا ہے، ان تنظیموں نے کہا ہے کہ بجلی کی طویل بندش اور پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے باعث لوگ اپنے گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے لاک ڈائون کا مقصد ختم ہوکر رہ گیا ہے، حیسکو کی نااہلی کے باعث علاقے میں کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ان تنظیموں نے وفاقی وزیر توانائی، چیِیرمین واپڈا اور چیف ایگزیکٹو حیسکو سے مطالبہ کیا ہے کہ پنگریو گرڈ اسٹیشن سے، منسلک دیہات اور قصبوں میں بجلی کی طویل غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافے کا نوٹس لیا جائے اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا حکم دینے والے حیسکو افسران کیخلاف کارروائی کی جائے۔