ملک بھر میں فوج تعینات ،پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی لاک ڈاؤن

119

اسلام آباد/لاہور/کوئٹہ /پشاور/کراچی (نمائندگان جسارت+خبر ایجنسیاں) کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں فوج تعینات کردی گئی۔وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیاہیکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب، سندھ، خیبر پختو نخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فوج تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیاہے۔بیان کے مطابق کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن پر سختی سے عملدرآمد کروانے کے لیے ملک بھر میں فوج کو طلب کیا گیا تھا، فوج کی تعیناتی سول انتظامیہ کی درخواست پر کی گئی ہے۔ ادھر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا ہے۔حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں 24 مارچ سے 6 اپریل تک شاپنگ مالز، بازار، دکانیں، پارکس، ریسٹورنٹس اور عوامی اجتماعات والی تمام جگہیں بند ،صورتحال کے پیش نظر ڈبل سواری پر بھی پابندی عاید کردی ہے۔ یہ فیصلہ صوبائی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میںکیا گیاجس کا اعلان وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے باضابطہ طور پر پریس کانفرنس میں کیا۔انہوںنے کہا کہ عوام سے التماس ہے کہ وہ ان 14 روز میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں اور فوج کے ساتھ تعاون کریں،سول اور فوجی ادارے احکامات پر عملدرآمد کے پابند ہوںگے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ لاک ڈاؤن کا مطلب کرفیو نہیں ہے، صوبے میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے۔ ن کا کہنا تھا کہ آج منگل کو کابینہ اجلاس میں تمام چیزوں پر غور کرکے غریب طبقے کی امداد کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان ہوگا۔علاوہ ازیں خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ 29مارچ تک صوبے میں لاک ڈاؤن رہے گا اور صورتحال کا جائزہ لے کر آگے کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، عوام کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومت سے تعاون کرے اور گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرے۔ادھر وزیراعلیٰ محمود خان بھی متحرک ہوگئے ہیں ۔انہوں نے پیر کو انسداد کورونا کے لیے قائم صوبائی ٹاسک فورس کے ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کی اور دوران پور میں قائم قرنطینہ مرکز کا معائنہ بھی کیا۔ادھر سندھ میں پیر کو مکمل لاک ڈاون رہا، صوبے بھر میں سڑکیں ویران رہیں جب کہ پابندی کی خلاف ورزی پر سندھ بھر میں 472 افراد کو گرفتار اور 84 مقدمات درج کیے گئے۔ صرف کراچی میں 315 افراد گرفتار اور46 مقدمات درج ہوئے۔ کراچی میں لاک ڈاون پر عملدرآمد کرانے کے لیے فوج ، رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے شہر کاگشت جاری رکھا ، کئی شاہراہوںکو بیریئر لگاکر بند کیا گیاجب کہ چند مقامات پر کنٹینر لگا کر بھی روڈ بند کیے گئے ، ماڈل کالونی سے ائر پورٹ جانے والے روڈ کو گاڑیوں کیلیے بند کیا گیا ہے جبکہ ملیر ہالٹ سے ماڈل کالونی جانے والے روڈ کو بھی بند ہے۔ علاوہ ازیں کراچی میں شہریوں کو مرغا بنانے کی وڈیو وائرل ہونے کے بعد ڈی آئی جی ساؤتھ شرجیل کھرل نے ایس ایچ او سول لائنز کو معطل کرکے ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز مقصود میمن نے کہا ہے کہ کراچی کے شہری لاک ڈاؤن پر سنجیدہ نظر نہیں آرہے اور غیر ضروری طور پر باہر گھوم رہے ہیں، لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر کارروائی بھی کی جارہی ہے۔ بعدازاں محکمہ داخلہ سندھ نے لاک ڈاؤن کے دوران موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ علاوہ ازیں کورونا وائرس سے متعلق حکومتی ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 99 مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 875 ہوگئی ہے۔تاحال 6 مریض جاں بحق اور 6 صحت یاب ہوچکے ہیں۔ سندھ میں کورونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 394، پنجاب میں 246، بلوچستان میں 110، گلگت بلتستان میں 71، خیبر پختونخوا میں 38 جب کہ اسلام آباد میں 15 ہے۔وزیرتعلیم سندھ سعید غنی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے اور انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں اس حوالے سے تصدیق کردی ہے۔سعید غنی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ گزشتہ روز میں نے کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروایا جس کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔علاوہ ازیں تبلیغی جماعت کے لاہور اجتماع میں شرکت کرکے لوٹنے والے 6افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد ہلچل مچ گئی ہے۔ کئی حلقوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ عالمی وبا کی اس خطرناک صورتحال کے باجود پنجاب حکومت نے لاکھوں افراد کے اجتماع کی اجازت کیسے دے دی۔ بتایا گیا ہے کہ اجتماع میں ہزاروں غیرملکی بھی شریک تھے اور لاکھوں افراد میں اگر یہ وائرس پھیل گیا تو صورتحال انتہائی خطرناک ہوجائے گی۔