حیدرآباد ،لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر لاٹھی چارج،درجنوں گرفتار

168

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) حکومت سندھ کے اعلان کے بعد حیدرآباد میں مکمل لاک ڈاؤن، پولیس ورینجرز کا گشت، اہم شاہراہوں کو سیل کردیا گیا، تجارتی وصنعتی سرگرمیاں بند، گھروں سے باہر نکلنے والوں پر پولیس کا لاٹھی چارج، درجنوں زیر حراست ، روزانہ اجرت پر کام کرنے والے غریب عوام کے لیے پانچ روز گذر جانے کے باوجود کوئی ریلیف کا اعلان نہیں کیا گیا لوگ فاقہ کشی پر مجبور ۔تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کے موذی وباء کو روکنے کیلیے 23مارچ سے 15روزہ مکمل لاک ڈائون کے احکامات پرپیر کی رات12 بجے سے عمل در آمد شروع ہو گیاجس کے تحت رینجرز اور پولیس کے جوانوں نے سڑکوں پر ناکے لگانے کے ساتھ مختلف شاہراہوں اور چوراہوں کو خاردار تاریں اور قناتیں لگاکربند کرکے بلاجواز گھروں سے نکلنے والے شہریوں سے پوچھ گچھ کرکے دوبارہ باہر نہ نکلنے کی وارننگ دی اور اس وارننگ پر عمل نہ کرنے والے نوجوانوں پر لاٹھیاں برسا کر واپس کردیا گیا۔ کئی مقامات پرنوجوانوں کو مرغا بھی بنایاگیا ۔شہر میں مکمل لاک ڈائون کے بعد میڈیکل اسٹورز، ڈیری شاپ، کریانہ اسٹورز، پیٹرول پمپس اورراشن سمیت اشیاء ضروریہ کے علاوہ تمام کاروباری مراکزاور چھوٹی بڑی ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بندرہی۔ سندھ حکومت کے 15روزہ سخت لاک ڈائون پر عملدرآمدکرانے کیلیے رینجرز کی بھاری نفری بھی حیدرآباد شہر کے مختلف علاقوں میں پہنچ گئی اور شہر کی اہم شاہراہوں پر رینجرز نے گشت شروع کردیا جبکہ شہر کے حیدرچوک،کوہ نور چوک،رسالہ روڈ،گاڑی کھاتہ روڈ، نیا پل،کورٹ روڈ،رسالہ روڈ، اسٹیشن روڈ،ٹاور مارکیٹ ،فقیر کا پڑ،ٹھنڈی سڑک،تلک چاڑی چوک اور لطیف آباد سمیت قاسم آباد کے مختلف علاقوں اور یونٹوں میں رینجرز کا گشت بھی جاری رہا اور کاروں،موٹرسائیکل سواروں سے پوچھ گچھ کرنے کے ساتھ ساتھ بلاجواز گھومنے والے شہریوں کو وارننگ دیکر واپس کرتے رہے ۔پیرکی صبح چند علاقوں میں لوگوں نے دکانیں کھولنے اور گھروں سے باہر نکلنے کی کوشش کی تاہم رینجرز کے سڑکوں پر آتے ہی شاہراہیں ویران ہوگئیں اور پورا شہر کرفیو کا منظر پیش کرنے لگا جبکہ سیکورٹی ادروں کی گاڑیوں پر کورونا وائرس سے بچائو کیلیے آگاہی بینرز بھی آویزاں کیے گئے ہیں ۔ رینجرز اور پولیس کی جانب سے پولیس ہیڈ کواٹر سے مشترکہ فلیک مارچ بھی نکالا گیا جس میں پولیس اور رینجرز کی درجنوں گاڑیوں سمیت موٹر سائیکلیں بھی شریک تھیں جو کہ حیدرآباد سٹی ،لطیف آباد اور قاسم آباد کی مختلف شاہراہوں پر گشت کرنے کے بعد واپس پولیس ہیڈ کواٹر پہنچ کر اختتام پزیر ہو گیا ۔فلیگ مارچ کے دوران شہریوں سے گھروں سے باہر نہ نکلنے کے اعلانات بھی کیے گئے اور گھروں سے باہر موجود شہریوں سے گھروں کی طرف جانے کی اپیل کی گئی ۔اناج منڈی کے بند ہونے سے اشیاء خورد نوش کی کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرین کے کسی بھی قسم کے ریلیف کا آغاز نہیں کیا گیا بعض مقامات پر مخیر حضرات کی جانب سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں میںراشن تقسیم کیا گیا تاہم سفید پوش لوگ شدید بدحالی کا شکار ہیں ۔