کراچی میں مہنگائی عروج پر پہنچ گئی ، اشیائے خورونوش عام آدمی کی دسترس سے باہر

301

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں لاک ڈائون میں گرانفروشوں اور ذخیرہ اندوں کی گرفت کے لیے حکومتی سطح پر انتظامات نہ ہونے کے سبب عوام کو بدترین صورتحال کا سامنا ہے، کریانہ اسٹوروں پر آٹا چینی اور دیگر اشیاء خورونوش کی شدید قلت ہے جبکہ مصنوعی قلت کے ذریعے ان کی منہ مانگی قیمت بھی وصول کی جارہی ہے ۔ کورونا وائرس کے خوف سے کراچی کے ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز مارکیٹوں میں آنے سے گریزاں ہیں شدید مہنگائی سے بیزار لوگوں اور دکانداروں میں تلخ کلامی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہونے لگا ہے۔ شہر کے مختلف مقامات سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز شہرمیں
لاک ڈائون کے اعلان کے ساتھ ہی لوگ کریانہ سبزی اور گوشت کی دکانوں پر ٹوٹ پڑے جہاں آٹا ملز45 روپے کے بجائے55 سے60 روپے کلو چینی80 کے بجائے85 سے 90 روپے کلو،گھی بناسپتی185 کے بجائے 200سے 220 روپے کلو فروخت ہونے لگی ہے جبکہ دال، چاول اور دیگر اجناس کے بھی منہ مانگے دام وصول کیے جارہے ہیں گئے پیر کے روز مارکیٹ میں آٹا اور چینی کا شدید بحران تھا اس تمام تر صورتحال کا علم ہونے کے باوجود کمشنر کراچی کی جانب سے شہریوں کو ریلیف دینے کا کوئی قدم نہ اٹھایا جاسکا ہے اس ضمن میں کمشنر ہائوس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عوام اپنی شکایات کمشنر کی ہیلپ لائن پر درج کرائیں دوسری جانب ہیلپ لائن 1122 پر شکایات سننے والے بھی غائب تھے۔