مودی سیاہ قوانین واپس لیں‘ مظاہرین کا مطالبہ

147

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 19 مارچ کو عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ کورونا کے باعث لگائے گئے کرفیو کی تائید کریں۔ مودی نے کہا تھا کہ شام 5 بج کر 5 منٹ پر عوام اپنے اپنے گھروں کی بالکونیوں، دریچوں اور دروازوں پر کھڑے ہوکر 5 منٹ تک تالی، تھالی اور گھنٹی بجاکر کورونا کے خلاف دنیا بھر میں جاری جنگ کی تائید کریں۔ تاہم اس دورا ن بڑی تعداد میں لوگوں نے تالیاں بجا نے کے ساتھ ملکی آئین کے تحفظ کے لیے آئین مخالف سیاہ شہریت قوانین این آر سی، سی اے اے اور این پی آر کے خلاف پلے کارڈ اٹھا کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے مودی پر زور یا کہ وہ ان سیاہ قوانین کو جلد از جلد واپس لیں، کیوں کہ کورونا وائرس سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہیں، جن کو ملک کے عوام کبھی قبول نہیں کریں گے۔ دوسری جانب دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر اترپردیش کے 6 شہروں میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں۔دہلی کے شاہین باغ میںخواتین دھرنے سے ہٹ گئی ہیں اورعلامتی طورپرجوتے چپل رکھ دیے ہیں، تاہملوگ کئی شہروں میں دھرنے پرڈٹے ہوئیہیں۔ اترپردیش کے 6 شہروں میں سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کی مخالفت میں دھرنے میں خواتین کی تعداد اگرچہ کم ہے، لیکن ان کے جذبے میں کوئی کمی نہیں ہے۔ مودی سرکار بھی اپنی ضدپراڑی ہے، اسی لیے خواتین کاکہناہے کہ حکومت کواگرفکرہے تواین آرسی لاگونہ کرنے کاواضح اعلان کرے، اور این پی آراورسی اے اے واپس لے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ ہمارا دھرنا بھی ملک کے مفادمیں ہے۔ہم اس سے کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔