کاموں کی ترجیحات درست کریں

386

مسئلہ لاک ڈائون نہیں تھا ۔ مسئلہ لاک ڈائون کے بعد حالات تھے ۔اب سندھ اور پنجا ب میں لاک ڈائون شروع ہو گیا ہے ۔ دیگردو صوبوں میں بھی لاک ڈائون کی کیفیت ہے ۔ لاک ڈائون کے نتیجے میں سب سے زیادہ اثر روز مرہ محنت مزدوری کرنے والوں اور کم تنخواہ پانے والوں پر پڑے گا ۔ چھوٹے دُکاندار ،پتھاریدار اور مارکیٹوں میں کام کرنے والے کارکن بری طرح متاثر ہوں گے ۔ وفاقی حکومت لاک ڈائون نہ کرنے کے لیے ان ہی لوگوں کا ذکر کر رہی ہے ۔ لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت دونوں ہی غریبوں کے اصل اعداد و شمار سے نا واقف ہیں ۔پاکستان میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد 2015ء کے اقوام متحدہ کے معیار کے مطابق 24.3فیصد تھی ۔ لیکن اقوام متحدہ کا معیار اور پاکستانی حکومتوں کی حماقتیں بعد المشرقین کا شاہکار ہیں اقوام متحدہ یومیہ ڈالرز کی آمدنی کی بنیاد پر خط غربت کا تعین کرتی ہے جبکہ پاکستانی حکومت نے صرف18 ماہ میں ڈالر کو 108 سے 170 تک پہنچایا جو اب بھی 158 کے قریب ہے ۔بین الاقوامی ادارہ تو دو ڈالر یومیہ کی بنیاد پر خط غربت کا تعین کرتا ہے لیکن یہی دو ڈالر پہلے دو سو روپے تک ہوتے تھے اب یہ317 روپے ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں اجرت نہیں بڑھی ہے ۔ صرف ایک فیصلے کے نتیجے میں لاکھوں پاکستانی خط غربت سے نیچے چلے گئے ۔ اس کے قیمتوں میں بے پناہ اضافے نے تنخواہ دار طبقے کی قوت خرید بھی چھین لی اس وجہ سے وہ بھی خط غربت کے قریب پہنچ گیا یا نیچے آ گیا اس کی بچت تو ہوتی نہیں وہ اُدھار لے کر گزارہ کر تا ہے اور اگلے مہینے کی تنخواہ ادھار چکانے میں خرچ کر دیتا ہے ۔ بہر حال وزیر اعظم کا یہ موقف درست ہے کہ کورونا کے بجائے گھبراہٹ اور افرا تفری سے خطرہ زیادہ ہے لیکن وزیر اعظم دیکھیں کہ گھبراہٹ اور افرا تفری کون پھیلا رہا ہے ،ٹی وی چینلز پر حکومت کے خلاف تنقید پر تو غصہ ہے لیکن اتنے کروڑ متاثر ہوں گے اور اتنے لاکھ مریں گے والے تجزیوں کو پیمرا کیوں نہیں روک رہا ۔ کیا وجہ ہے کہ حکومت کے پاس یہ اعداد و شمار ہی نہیں کہ کتنے لوگ ملک سے باہر کہاں کہاں گئے ہوئے ہیں ۔ ان کوکب کب آنا ہے ۔ ایران سے آنے والوں کا معاملہ بھی یہی تھا ۔ حکومت کی جانب سے لا علمی یا غفلت سب سے بڑا سبب ہے کورونا کے مریضوں اور مرض کے پھیلنے کا… جو کام پہلے کرنے کا تھا وہ بعد میں کیا جا رہا ہے ۔ سب سے پہلا کام پروازوں اور سرحدوں کی بندش تھا لیکن حکومت یہ نہیں کر سکی ۔ پھر معیاری اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق آئسو لیشن سینٹر یا قرنطینہ نہیں بنائے جاسکے ۔ اگر پہلے ہی مرحلے میں حکومت نے سرحدوں اور پروازوں کو بند کر دیا ہوتا تو نہ مریض پاکستان میں آتے نہ مرض۔ اور نہ لاک ڈائون یا کرفیو کی نوبت آتی ۔ ا ب بھی الزام اور جوابی الزام کا کھیل ختم کر کے وفاقی حکومت اپنا رول ادا کرے ، تمام صوبوں کو ایک جگہ جمع کر ے اور اس معاملے کو قومی سطح پر اتفاق رائے کے ذریعے حل کیا جا ئے ۔ اب صرف یہی کام ہے کہ خود بھی احتیاط کی جائے اور عوام کو بھی احتیاط پر مجبور کیا جائے ۔ عوام تو مجبور ہو گئے ہیں لیکن حکمران آپس میں لڑ رہے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ حکومت بھی وفاقی حکومت کے اداروں سے وصولیابی کم کرنے کے مطالبات کر رہی ہے ۔ کے الیکٹرک ، گیس کمپنی وغیرہ کے واجبات کی بات کر رہی ہے لیکن صوبائی حکومت بھی جو ٹیکسز وصول کرتی ہے ان میںسے کون کون سے موخر یا معاف کیے گئے ہیں ۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ وفاق اور صوبے اختلاف رائے کے بجائے مخالفت برائے مخالفت میں اُلجھے ہوئے ہیں جس کی جہ سے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔