درد دل کے واسطے روبینہ اعجاز

400

ایک چھوٹے سے خوردبینی جرثومے نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے ۔بڑے بڑے سائنسدان ۔ڈاکٹرز ۔دن رات جدوجہد میں مصروف ہیں کہ ابن آدم کو کرونا وائرس سے نجات دلا سکیں ۔مگر جب حکم خداوندی ہو گا تب علاج بھی نکل آئے گا ۔بس اسکے ایک کن کی ضرورت ہے ۔
شائد اللہ تعالی نے ہمیں سوچنے سمجھنے کا موقع دیا ہے۔جبکہ سائنسی ترقی اپنے عروج پر ہے۔اللہ تعالی دکھا رہاہے کہ مجھ سےزیادہ طاقتورکوئی نہیں ۔میرے بتائے ہوئے راستے سے بھٹکو گے تو خسارے میں رہو گے ۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت خود غرض ہوتا جا رہا ہے ۔اس نے اپنی سوچ صرف اپنی ذات اور اپنے خاندان تک محدود کر دی ہے ۔وہ دن رات دولت کے حصول اور دنیاوی آسائشیں حاصل کرنے کی تک ودو میں مصروف ہے۔عارضی دنیا میں آرام و سکون حاصل کرنے کی خاطر آخرت کو بھول چکا ہے ۔ قطعہ نظر اسکے کہ اسکے اردگرد کتنے لوگ ایسے ہیں جو غربت کی زندگیاں گزار رہیں ہیں ۔ظلم وستم برداشت کر رہے ہیں ۔غرض بہت سوں کو پیسوں کی ضرورت ہے تو کسی کو حق کی آواز بلند کرنے میں ساتھ کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے ۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔تم ایک جسم کی مانند ہو ۔ایک حصےکو درد ہو تو دوسرے کو محسوس ہوتا ہے ۔
مگر یہاں امت مسلمہ کا حال الٹ ہے دنیا میں مسلمانوں کی حالت اب ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ شام فلسطین اور دیگر مسلم ممالک میں مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے باشندے تو مہینوں سے اپنے گھر میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ کہیں بے گناہوں کے قتل ہو رہے ہیں تو کہیں نوجوانوں کو معزور کیا جا رہا ہے۔ عورتوں کی عصمتیں لوٹی جارہی ہیں۔ ہم سب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی دعوے دار اور عاشق رسول تو بنتے ہیں۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کے درد کو کس حد تک محسوس کرتے ہیں؟
بقول شاعر
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لیے کم نہ تھے کروبیاں
ان معصوم لوگوں کو انکی حال پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ جہاد جیسے جذبے کو اللہ حافظ کہہ دیا گیا ہے ۔کیونکہ اس میں ہماری ذات ہمارے خاندان پر کوئی آنچ نہیں آرہی ہے ۔ مگر اب آج کل ہم سب کتنے فکرمند ہیں ۔دعاؤں میں بھی گڑگڑاہٹ ہے ۔ اور بہت کچھ کرنے کا جذبہ بھی ہے ۔کیونکہ اب ہمیں اپنے اوپر مصیبت آتی ہوئی نظر آرہی ہے کہ دنیا میں ہزاروں افراد اسے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اور ملکوں کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔حقیقتاً اس کا تدارک ہونا چاہیے۔ اس سے بچاؤ کی تدابیر بھی اختیار کرنی چاہیے ۔دعاؤں اور استغفار سے بھی کام لینا چاہیے کہ اللہ تعالی ہمیں اور تمام نوع انسانی کو اس موذی وائرس سے محفوظ رکھے۔
کیونکہ پیغمبروں کا طریقہ کار بھی یہی تھا کہ وہ استغفار کرتے تھے اور اللہ تعالی سے مشکل اور اپنی قوم کی نجات کے لئے دعائیں مانگا کرتے تھے۔
لیکن اس وقت جب کہ دیگر سرگرمیاں کم ہو چکی ہے۔ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ آیا ہم سے تو کوئی بددیانتی نہیں ہوئی۔ کچھ ناانصافی تو نہیں ہوئی یا پھر ہم اتنے خودغرض ۔ہوگئے تھے کہ اپنے بھائیوں کی مشکلوں کو بھول گئے تھے ؟اسی لئے ان دنوں میں ہمیں اپنا زیادہ سے زیادہ محاسبہ کرنا چاہئے اور اپنی کوتاہیوں کی طرف نظر کرنی چاہیے اور اللہ تعالی سے یہ بھی دعا مانگنی چاہیے کہ اللہ تعالی ہمارے دلوں میں گداز پیداکردے ۔۔ہمارےدلوں میں اور ہماری زبان میں نرمی پیدا کردے کہ ہم دوسروں کے درد کو بھی محسوس کر سکیں۔