انتخاب

141

جب مسلمان عرب و عجم اور دنیا کو فتح کرنے کے لیے نکلے تھے تو کیا تھے ۔ کسریٰ کے دربار میں ان سے یہی کہا گیا کہ تم لوگ کیا ہو ، تم تو بھوکے ننگے ہو ، تمہارے لباس میں پیوند لگے ہوئے ہیں ، تمہیں دو ووقت کی روٹی تک نصیب نہیں، تم اٹھنے ، بیٹھنے اور تہذیب و تمدن کے آداب سے نا آشنا ہو ۔ اگر تمہیں دولت کی ضرورت ہے تو ہم سے لے لو اور واپس چلے جائو ۔ اس پر مسلمان سفیر نے کہا کہ نہیں ، ہم تو اس لیے آئے ہیں کہ اللہ کے بندوں کو دنیا کی تنگیوں سے نکال کر آخرت کی وسعت کی طرف لے جائیں ۔ یہ وہ چیز ہے جس کی اہمیت خود اپنی ذات کے لیے ، اپنی تنظیم کے لیے اور اس دعوت کے لیے بھی ہے جس کو ہم عام کرنا چاہتے ہیں ۔ اس لیے کہ مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان کی رگوں میں حرکت پیدا ہوئی ہے ، وہ اُٹھ کھڑاہوا ہے اور اس نے جان و مال کی قربانی دی ہے تو وہ جہاد اور جنت کی خاطر ہی دی ہے ۔
از تحریک کے تقاضے ۔ خرم مراد