قیام پاکستان کا مقصد اب بھی حاصل نہیں ہوا

64

محمد شفیق اعوان
اسلامی جمہوریہ پاکستان جس مقصد و نظریہ کے لیے حاصل کیا گیا تھا وہ مقصد اب بھی حاصل نہ ہوسکا، وہ مقصد، نظریہ جو کہ خیر ہی خیر ہے، جس میں امن و سلامتی ہے، جس میں ترقی و کامرانی ہے، اُسے ہم نافذ نہ کرسکے۔ وہ مقصد اور نظریہ دین اسلام ہے۔ اسلام کے نفاذ کے لیے ایک بھرپور تحریک اسی انداز سے شروع کرنے کی ضرورت ہے جس طرح اس ملک کو بناتے وقت شروع کی گئی تھی۔ تب ہی اس ملک میں اسلامی نظام حکومت قائم ہوسکے گی۔
بعض روشن خیال اور لادینیت کے علمدار اپنے منہ کی بدبودار باتیں حضرت علامہ محمد اقبالؒ اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے منہ میں ڈالنے کی کوشش میں دن رات مصروف نظر آتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح پوری قوم کو دھوکے میں ڈالنے میں کامیاب ہوجائیں گے یہ اُن کی بھول ہے۔
یہ ملک اسلام کے لیے بنا ہے اور اسلام ہی اس ملک کا آئین بنے گا اور اس کی بقا کا ضامن بھی اسلام ہی ہے۔ مسلمانوں نے اس ملک کو بنانے کی خاطر بہت بڑی قربانی دی ہے۔ لاکھوں مسلمان شہید ہوئے، لاکھوں عورتوں کی عصمت پامال ہوئی، لاکھوں مسلمان بچے بوڑھے معذور ہوئے، اربوں ڈالروں کی املاک تباہ ہوئیں، مصیبتوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تب جا کر یہ ملک بنا۔
کیا یہ تمام قربانیاں ایک سیکولر ملک بنانے کے لیے دیں گئی ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔
یہ قربانیاں صرف اسلامی نظام حکومت کے لیے دی گئی تھی۔ کیا علامہ اقبالؒ، قائد اعظمؒ اور قائدین مسلم لیگ مسلمانوں کو دھوکے میں رکھ کر تحریک چلا رہے تھے؟ نہیں ہرگز نہیں، بلکہ وہ تو صرف اسلامی حکومت کے لیے جدوجہد کررہے تھے، تمام قائدین اور کارکنان تحریک پاکستان سچے، پکے اور کھرے مسلمان تھے، اس کی شہادت کے لیے علامہ اقبالؒ، قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور دیگر قائدین کے تمام بیانات و تحریریں موجود ہیں اور گفتگو، خدمات اور کردار کا ریکارڈ بھی محفوظ ہے۔ نیز اب بھی وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے تحریک میں حصہ لیا تھا۔
مسلمانوں نے تمام قربانیاں اسلام کی خاطر دیں اور اسلام کے علاوہ کوئی دستور یا آئین قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہر پاکستانی کو چاہیے کہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد کرے، ملک میں اسلامی حکومت قائم ہو تا کہ اس کی برکتیں و رحمتیں اور ثمرات ملیں اور دنیا کے لیے ایک نمونہ بنے اور دنیا اپنی آنکھوں سے یہ نظارہ کرے کہ اسلامی ریاست کیسی ہوتی ہے۔
مخلص قیادت کی رہنمائی میں مسلمانوں نے قربانیاں دے کر ملک حاصل تو کرلیا لیکن اب غیروں کی تقلید میں اپنے قائدین کے اصولوں کو چھوڑ دیا، اللہ اور رسولؐ کو بھلا دیا، صحیح راستے کو چھوڑ دیا، جس کی وجہ سے ہم پر آزمائشیں ہی آزمائشیں آرہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے ملک کو اپنے قائدین کی سوچ کے مطابق اپنے وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ترقی نہ دے سکے۔ اس کے باوجود مایوسی کی کوئی بات نہیں بشرطیکہ ہم پورے اخلاص کے ساتھ اسلام کے اصولوں کے کار بند ہوجائیں تو دنیا کی دیگر قوموں کے مقابلے میں آسکتے ہیں۔ بلکہ ان سے زیادہ ترقی کرسکتے ہیں۔ قائدؒ کے فرمان ایمان، اتحاد، تنظیم اور یقین محکم پر عمل کرکے دنیا میں بھی سرخرو ہوسکتے ہیں اور آخرت میں کامیاب اور بامراد ہوسکتے ہیں۔ بس اُمید کی شمع جلانے کی ضرورت ہے۔ مسلسل محنت، جدوجہد اور علم و تحقیق شرط اوّل ہے۔ ترقی و کامرانی منافقت، دورنگی، مکاری میں نہیں ہے ترقی سچائی، دیانت داری، امانتداری، یک رنگی میں ہے، ترقی روپ میں ہے نہ کہ بے روپ میں۔
امریکا، برطانیہ، چین، جاپان، مقبوضہ فلسطین (جہاں یہودیوں نے اپنی حکومت قائم کرلی ہے) ان ممالک کے رہنے والوں نے اپنے دین کا نفاذ کیا، اپنی زبانوں کو نافذ کیا، اس لیے ترقی کررہے ہیں۔ ہم بھی ترقی کرسکتے ہیں بشرطیکہ ان ممالک کی طرح ہم بھی اپنے دین اسلام کو نافذ کریں اور اپنی زبان اُردو کو نافذ کریں۔ تاریخ کی شہادت موجود ہے جس قوم نے دنیا مین ترقی کی ہے اس نے اپنی زبان و ثقافت اپنا کر ہی ترقی کی ہے۔ نقالی، اداکاری سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ دنیا کا نظام بنائو اور بگاڑ کے اصولوں چلتا ہے جو قومیں بگاڑ کا کام زیادہ کرتی ہیں وہ غلام بن جاتی ہیں۔ آج ہماری حالت یہ ہے کہ ملک میں ہر طرف بدامنی، بے چینی ہے، کہیں بھی راحت و سکون نہیں، ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم ہے، عدل و انصاف کا نام نہیں، ظلم، بے روزگاری، خودکشی و خودسوزی زوروں پر ہے۔ ملک و ملت کو اس حالت سے نکالنے کا واحد حل یہی ہے کہ ہم اپنے اللہ سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کریں۔ اس ملک کو حقیقی معنوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بنائیں۔ یہاں عدل و انصاف کا نظام نافذ کریں، نیکی کو پروان چڑھائیں، برائیوں کو ختم کریں، یہ کوشش ہر سطح پر ہونی چاہیے، انفرادی سطح پر اور اجتماعی سطح پر بھی ہونی چاہیے، اس کوشش کے نتیجے میں کامیابی ہمارا مقدر بنے گی، ہم دنیا میں کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی سرخرو ہوں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ