قائداعظم کی اصول پسندی

56

محمد جاوید

پاکستان کا وجود اس کائنات نا تمام پر ایک معجزہ خداوندی سے کم نہیں۔ پاکستان کا وجود اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مرضی اور منشاکی تکمیل کے لیے محمد علی جناح کا انتخاب کیا وگر نہ برصغیر میں بڑے نامور انسان موجود تھے۔ علمائے اسلام‘ سیاسی عمائدین، حکومتی اکابرین ، قانونی ماہرین اور بین الاقوامی سیاستدان‘ کون کیا کچھ نہ تھا لیکن اسلامیانِ ہند کے لیے آزادی اور تخلیق پاکستان کا اہم فریضہ انجام دینے کی ذمے داری محمد علی جناح ہی کو سونپی گئی۔
آج ۲۳ مارچ ہے‘ یہ ہمار اقومی دن ہے۔ آج کے دن برصغیر کے مسلمانوںنے اپنی واحد نمائندہ قومی جماعت ’’ آل انڈیا مسلم لیگ‘‘ کے پلیٹ فارم سے لاہور کے تاریخی اجلاس میں اپنے عظیم محسن اور محبوب ترین سیاسی رہنما محمد علی جناح کی قیادت میں ایک تاریخی قرارداد منظور کرکے اپنی منزل کا تعین کیا تھا۔ اس قرار داد کے ذریعے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہندوستان کو تقسیم کرنے اور اس کے شمال مغرب اور شمال مشرق میں مسلمان اکثریت پر مشتمل علاقوں میں آزاد اور خود مختار ریاستیں قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اگرچہ قرارداد لاہور میں لفظ پاکستان کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا تھا مگر پھربھی اس قرارداد کو قررداد پاکستان کے نام سے شہرت نصیب ہوئی ۔
قیام پاکستان کے مطالبے کو دو قومی نظریے کی تشکیل اور ارتقا کے پس منظر میں برصغیر کے مسلمانوں کی‘ عروج و زوال سے لبریز کئی صدیوں پر محیط قومی تاریخ کے مرکزو محور کی حیثیت حاصل رہی۔ انہوں نے اپنی سیاسی برتری اور بعد ازاں سیاسی زوال اور معاشی و معاشرتی انحطاط اور پسماندگی کے ہر دورمیں اپنی قومی انفرادیت اور جداگانہ حیثیت کو برقرار رکھنے اور اسلام کی نشاۃ الثانیہ کے لیے طویل جدوجہد کی اور بے پناہ قربانیاں پیش کیں۔
مسلمانوںکا گذشتہ کئی صدیوں میں زبردست عروج وزوال سے گذر ہوا ہے۔ سائوتھ ایشیا میں منگولوں نے مسلمانوں کو زوال آشنا کیا۔ مسلمان جب ۲۱۷ء ؁ میں ہندوستان آئے تو اسی وقت ایک منفرد مسلم قوم وجود میں آگئی تھی جس کی بنیاد اسلامی نظریہ حیات تھا۔مگر تین صدیوںکے بعد مسلمانوں کی بادشاہت قائم ہوئی جنہوں نے ہندوستان میں اسلام کا جھنڈا بلند کیا۔ پھر انگریزوں نے مغل بادشاہت کو زوال پذیر کرکے ایک صدی حکومت کی۔ پھر بیسیویں صدی میں محمد علی جناح نے مسلمانوں کے سوئے ہوئے شعور کو جگا کر پاکستان قائم کیا۔ برّصغیر بیشمار انسانی گروہوں اور اقوام کا مسکن رہا ہے مگر ان میں سے بیشتر ایک دوسرے میں ایسے مدغم ہوتے چلے گئے کہ آج انہیں انفرادی طور پر کوئی نہیں جانتا ۔ محمد علی جناح نے بجا طور پر فرمایا تھا کہ ’’ برّصغیر ہندوستان میں پاکستان اس وقت وجود میں آگیا تھا جب یہاں پہلا غیر مسلم مسلمان ہوا ‘‘۔
مسلمانوں نے محمد علی جناح کی قیادت اور راہنمائی میں بے مثال قربانیاں دیں ۔انھوں نے مطالبہ پاکستان کو عملی جامہ پہنانے اور دو قومی نظریہ کو روشناس کرانے کے لیے برصغیر پاک و ہند کے چپے چپے کا دورہ کیا۔ سیاسی کارکنوں ، صحافیوں ، وکلا ، طلبا و خواتین اور ماسوائے نیشنلسٹ علما ہر ایک نے تحریک پاکستان میں بے پناہ قربانیاں دے کر اپنا تاریخی کردار ادا کیا۔ مسلمانانِ برصغیر نے قائداعظم کی مومنانہ، مدبرانہ، مخلصانہ اور لازوال قیادت میں انگریزوں اور ہندوئوں کو گھٹنے ٹیکنے اور مطالبہ پاکستان تسلیم کرنے پرمجبور کردیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے قائداعظم کی راہنمائی میں ایمان‘ اتحاد اور تنظیم کی بدولت صرف سات سال کے قلیل عرصے میں پاکستان کی جنگ جیت لی اور ۳ جون 1940ء؁ کے تقسیم ہند کے منصوبہ کا اعلان کرکے انگریزوں نے قیام پاکستان کے مطالبہ کو تسلیم کرلیا اور آخر کار وہ مبارک گھڑی آ پہنچی جب14 اگست 1940ء؁ کو مطالبہ پاکستان کا خواب حقیقت میں بدل گیا اور دنیا کے نقشہ پر سب سے بڑی نظریاتی اسلامی ریاست معرضِ وجود میں آگئی۔ اگرچہ انگریزوں نے ایک سازش کے تحت پاکستان کو غیر محفوظ اور کمزور بنانے کی ہر مجرمانہ کاروائی کی تھی مگر ناگزیر حالات میں مسلمانوں نے پاکستان کو قبول کرلیا۔
محمد علی جناح اتنے بااصول اور دیانتدار تھے کہ کسی بھی ناجائزبات پر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ وائسرائے ہند لارڈ لین لتھ گو نے ان سے ملاقات کے دوران دبے لفظوں میں یہ کہا کہ میں مسلمانوں کے مطالبے کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر یہ کہوں تو آپ بُرا نہیں مانیں گے کہ اگر آپ یہ مطالبہ ترک کردیں تو دنیا کی ہر چیز آپ کے قدموں پر نچھاور کی جاسکتی ہے۔ قائداعظم نے لارڈ کی گفتگو انتہائی صبر و تحمل سے سنی اور مسکرائے۔ آپ کی مسکراہٹ کے جواب میں وائسرائے ہند نے کہا کہ یہ بات میں نے ایک مشورے کے طور پر کہی ہے اور آپ سے مجھے کسی نتیجے کی امید ہے۔ قائداعظم نے دوبارہ مسکراتے ہوئے کہا اچھا اب اجازت دیجئے انشاء اللہ اس سلسلہ میں دوبارہ ملوں گا۔ جب وہ دوبارہ وائسرائے ہند سے ملنے گئے تو اس وقت ان کے پاس پاکستان کا ایک نقشہ بنا ہوا تھا۔ یہ نقشہ ان کے پاس کہا ں سے اور کس نے بھیجا یہ اُس وقت تک کسی کو معلوم نہیں تھاجب تک قائداعظم نے وائسرائے کو نہیں بتایا۔
انھوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ پاکستان کے مطالبے سے دستبردار ہوجائوں اور مسلمانوں کو دھوکے میں رکھوں یہ تو مجھ سے قطعی نہیں ہوسکتا ۔ یہ دیکھئے ہندوستان کا نقشہ جو روہیل کھنڈ کی ایک گیارہ سالہ لڑکی نے بنا کر بھیجا ہے جس کا سارا گھر صوم و صلوٰۃ کا پابند ہے جس نے گھر کی چار دیواری سے باہر قدم نہیں رکھا اور جو پردے کی سختی سے پابند ہے‘ اس کا یہ مطلب ہے کہ پاکستان کی آوازان گھروں تک بھی پہنچ گئی ہے جن کے گھروں کے دروازے بند ہیں لیکن دلوں اور ذہنوں نے پاکستان کو قبول کرلیا ہے۔ پھر کیسے میں ان دلوں اور ذہنوں کو توڑ سکتا ہوں۔ روہیل کھنڈ کی گیارہ سالہ لڑکی نے ایک ریشمی کپڑے پر ہندوستان کا نقشہ کاڑھا اور مسلمانوں کی جہاں اکثریت تھی ان علاقوں کو سبز رنگ کے دھاگے سے دکھایا تھا۔ جب وائسرائے نے یہ نقشہ دیکھا اور قائداعظم کی گفتگو سنی تو وہ خاموش ہوگیا ‘تب انھوں نے لارڈ سے کہا کہ پاکستان کی تحریک صرف ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں نہیں بلکہ دیہات کے بازاروں سے نکل کر بند گھروں کے اندر داخل ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب اسے کوئی نہیں روک سکتا اور نہ ہی اب یہ تحریک رک سکتی ہے۔ قائداعظم کے تصورات و نظریات کی ہمہ گیری کا اندازہ اس واقعے سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے نقشِ قدم پر چلنے کے لیے پردہ دار گھر بھی بے تاب تھے۔ گویا سرحد سے لے کر حیدرآباد دکن کے مسلمانوں کے گھروں میں 23مارچ 1940ء؁ ؁ سے پہلے ہی قرارداد کا سکہ جاری ہوچکا تھا لیکن اس کی منظوری 23مارچ1940ء؁ ؁ کو ہوئی تھی۔