بنگلادیش میں محصور پاکستانی

201

الطاف ملک (جدہ۔ سعودی عرب)

بنگلادیش میں مختلف مقامات پر قائم کیے گئے کم و بیش40 کیمپوں میں 3 لاکھ سے زائد محصور مخلص پاکستانی گزشتہ 48 برس سے زائد وقت گزرنے کے باوجود صرف اپنی پاکستانیت کی شناخت برقرار رکھنے اور پاکستان کا نام لینے کے جرم کی پاداش میں تیسرے درجے کے شہری بن کر کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ محصورین کے بوسیدہ کیمپوں کے جھونپڑی نما گھروں یا کیمپوں کے گیٹ پر لگے پاکستانی جھنڈے آج بھی ان کی پاکستان سے بے لوث محبت کی داستانوں کے امین ہیں۔ ایک پوری نسل نے اپنی زندگی پاکستان کے لیے اور پاکستان کے نام پر ان کیمپوں میں گزار دی ہے، تاہم افسوس کہ پاکستان میں ان کا نام لینے والا یا ان کی سہولت کے لیے کچھ کرنے والا کوئی نہیں۔ سابقہ اور موجودہ حکومتیں بھی کئی بار صرف اعلان کرکے خاموشی اختیار کر چکی ہیں۔
پاکستان کی حکومت کو اس غلط فہمی سے نکلنا ہوگا کہ ان محصورین کی آہیں اور بے بسی ہمیں کبھی چین لینے دے گی۔ یہ وقت ہے کہ سب مل کر ان کی داد رسی کے لیے آواز بلند کریں جو ہمارا کہ ہمارا قومی فریضہ ہے۔