دنیا میں ہنگامی صورتحال ہے ،سارک کو فعال بنایا جائے،پاکستان

90

اسلام آباد/لاہور (آئی این پی+اے پی پی) پاکستان نے کہا ہے کہ کورونا وائس کی وجہ سے دنیا کو ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے ،عالمی کے چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے سارک کو فعال بنایا جائے،اورمشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے، پاکستان سارک ممالک کے وزرائے صحت کی ویڈیو کانفرنس منعقد کرانے کا متمنی ہے۔جبکہ سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نامزد صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ سارک ممالک کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ فنڈ قائم کریں۔تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ کمار گیاولی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کورونا عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس چیلنج سے مؤثر انداز میں نبرد آزما ہونے کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہا سارک کی صورت میں ہمارے پاس ایک اہم علاقائی پلیٹ فارم موجود ہے پاکستان کی کوشش ہے کہ اس ایمرجنسی کی صورتحال میں اس پلیٹ فارم کو فعال بنایا جائے، سارک ممالک کے ارکان کے مابین خطے میں نیپال کا کردار قابلِ تحسین ہے،شاہ محمود قریشی نے کہا ہم نے کہا کہ ایران کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ،ہزاروں افراد کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں ایران، معاشی پابندیوں کی وجہ سے کورونا وبا کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھانے سے قاصر ہے۔یورپی ممالک سے گزارش کی ہے کہ اس عالمی وبا کے پیش نظر ،قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے وسائل اس وبا کے پھیلاؤ کے خلاف استعمال کر سکیں۔ نیپالی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اپنے کثیر الجہتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے خواہاں ہیں ،ا نہوں نے کہا کہ ہمیں ایران کی صورت حال پر تشویش ہے اور نیپال ایران پر پابندیاں ختم کرانے کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،نیپالی وزیر خارجہ نے پاکستان کی طرف سے سارک وزرا صحت کانفرنس کی تجویز کا خیر مقدم کیا۔علاوہ ازیںسارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) کے نامزد صدر افتخار علی ملک نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے سارک ممالک کا مشترکہ فنڈ قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش اس عالمی وباء سے نمٹنے کے لیے 5,5 ملین ڈالر جبکہ مالدیپ، نیپال، بھوٹان اور افغانستان 2,2 ملین ڈالر کی ابتدائی رقم سے مشترکہ فنڈ کا آغاز کریں، جو انفرادی کوششوں کے مقابلے میں وباء کا مقابلہ کرنے کا سب سے بہتر اور موثر طریقہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک دنیا کے لیے مثال قائم کرتے ہوئے اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر آگے آئیں اور صحت مند کرہ ارض کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ کورونا وائرس تمام انسانوں کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار نہیں کیونکہ یہاں جدید سہولیات کا فقدان ہے اس لیے ان ممالک میں کورونا وائرس کا ممکنہ پھیلائو تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔