جماعت اسلامی کا مستحسن فیصلہ

466

ایک طرف وفاق اور سندھ کی صوبائی حکومت کو رونا اور لاک ڈائون پر سیاست میں مصروف ہیں اور دوسری طرف جماعت اسلامی نے میدان میں اُتر کر عملی قوم اُٹھاتے ہوئے70 دفاتر الخدمت اسپتال اور کلینکس کو عوامی مدد کے لیے کورونا ہیلپ سینٹر میں تبدیل کر دیا ہے ۔ حکومت سے باہر اسمبلیوں میں نہایت معمولی نمائندگی رکھنے والی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے وہ کام کر دکھایا جو حکمرانوں کو کرنے چاہییے ۔ یہ معاملہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کانہیں بلکہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ قوم کے لیے ہر قدرتی آفت ، ہر مصیبت کے وقت بے لوث خدمت کا فریضہ سر انجام دیا ہے ۔ کوئی جماعت اسلامی سے اس کے لیے درخواست نہیں کرتا اس کے ذمے دار خودسر جوڑ کر بیٹھتے ہیں ۔ خود ہی فیصلے کرتے ہیں ۔ اس کے پاس جو وسائل ہوتے ہیں انہیں اللہ کا نام لے کر غریبوں اور ہر آفت کے متاثرین کی خدمت کے لیے وقف کر دیتے ہیں ۔ پھر وہی ہوتا ہے جو اللہ کی خاطر کام کا نتیجہ ہوتا ہے ۔یعنی برکت۔ 2005ء کے زلزلے کے بعد سے اب تک جماعت اسلامی تمام زلزلہ متاثرہ علاقوں میں موجود ہے ۔ ایک ایک چپے پر اس کے کارکن موجود ہیں کراچی سے جانے والے وہیں کے ہو رہے ۔بارش ہو یا کوئی اور مسئلہ الخدمت کے رضا کار ہر وقت تیار ہیں ۔ جب کراچی میں شدید گرمی لوگوں کومار رہی تھی تو ان کے لیے سائبان ، پانی چھڑکائو ، چھتری وغیرہ کا انتظام ہی جماعت اسلامی اور الخدمت والے کر ہے تھے ۔ اس وقت تھر پارکر سمیت سندھ کے کئی شہروں میں جماعت اسلامی نے الخدمت اسپتالوں اور دیگرکلینکس وغیرہ کو آئسو لیشن کیمپ اور کورونا سینٹر بنا دیا ہے ۔ مفت میں لوگوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں ۔ جو مطالبات وفاق سے حکومت سندھ نے کیے ہیں کہ لوگوں کو بجلی و گیس کے بلوں میں رعایت دی جائے اضافی چارجز ختم کیے جائیں ۔ پیٹرول کی قیمت کم کی جائے ۔ مزدوروں کو ریلیف دینے کے اقدامات کیے جائیں وغیرہ ۔ یہ تمام مطالبات حکومت سندھ نے بھی وفاق سے کر ڈالے ہیں لیکن حکومت سندھ کے قبضے میں جو کچھ ہے جہاں تک اس کا کنٹرول ہے وہ ان اداروں اور محکموں میں تو لوگوں کو ریلیف دے ۔ الخدمت نے تو تین سو ایمبو لینسیں بھی کورونا مریضوں کے لیے عملے سمیت حکومت کی خدمت میں پیش کر دیں ۔ منصورہ اسپتال میں160 بستروں پر مشتمل آئسو لیشن وارڈ کا بھی افتتاح کر دیا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتیں یہ کام کیوں نہیں کر سکتیں اور جماعت اسلامی کیوں کر جاتی ہے ۔ اس کی سادہ سی وجہ تو یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں مرکزی حکومت سے اور مرکزی حکومت بین الاقوامی اداروں سے مالی مدد کی منتظر رہتی ہیں جبکہ جماعت اسلامی محض اللہ کے سہارے کام شروع کرتی ہے پھر اللہ کے بندے فوج در فوج اس کے کام میں تعاون کے لیے آگے بڑھتے ہیں ۔ حکومتوں کے کرنے کے کام وہی کرتی ہے ۔ اس بات سے اس امر کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حکومت کو یہ بھی معلوم نہیں کہ پانچ افراد کے گھرانے کے لیے مہینے بھر کا کم از کم راشن کتنے میں ملتا ہے ۔ اس کا تخمینہ بھی الخدمت اور دیگر رضا کار اداروں سے لیا گیا ہے