سندھ میں مکمل لاک ڈاؤن، کورونا متاثرین کی تعداد 645 ہوگئی

1189

کراچی/اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) ملک میں کورونا وائرس تیز رفتاری سے پھیل رہا ہے جس کے نتیجے میں ہفتے کے روز کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 630تک جا پہنچی ہے جس کے بعد حکومت نے بین الاقوامی فضائی آپریشن 4اپریل تک معطل کردیا ہے اور حکومت سندھ نے آج رات12 بجے سے مکمل لاک ڈائون کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان نے ملک میں فضائی لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت سنیچر کی رات 8 بجے کے بعد سے ہر قسم کی بین الاقوامی پروازوں کو ملک میں لینڈنگ کی اجازت نہیں دی گئی تاہم قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے وہ طیارے جو ملک سے باہر ہیں انہیں اتوار کی صبح تک ملک میں واپس آنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے فضائی لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں 4 اپریل کی رات 8 بجے تک پاکستان آنے والی پروازیں معطل رہیں گی تاہم وی آئی پی طیاروں اور کارگو طیاروں کو استثنا حاصل ہوگا۔

معید یوسف نے کہا ہے کہ بین الاقوامی پروازوں کے لاک ڈاؤن کا فیصلہ جمعہ کو وزیر اعظم کے زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا ۔ حکومت پاکستان کے اس فیصلے کے بعد قومی فضائی کمپنی پی آئی اے نے سنیچر کو ہی اپنا بین الاقوامی آپریشن فوری طور پر معطل کردیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل حکومت پاکستان نے بین الاقوامی پروازوں سے پاکستان آنے والے مسافروں کے لیے ہیلتھ سرٹیفکٹ کی شرط لگائی تھی جس کے تحت مسافروں کے پاس کورونا فری ہونے کی لیبارٹری رپورٹ ہونا لازمی تھا۔ حکومت پاکستان کی اس شرط کے باعث یورپ اور امریکا سے آنے والے ہزاروں پاکستانی مسافروں کو فضائی کمپنیوں نے آف لوڈ کردیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان نے جمعہ کو ہیلتھ سرٹیفکٹ کی شرط کے خاتمے کا اعلان کیا تھا مگر سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے بروقت نوٹم جاری نہ کیے جانے کے باعث ہزاروں پاکستانی مسافر یورپ اور امریکی ائرپورٹوں پر پھنسے ہوئے تھے۔ اب پاکستان میں بین الاقوامی پروازوں پر پابندی عاید ہونے کی وجہ سے یہ پاکستانی مزید 2 ہفتے وطن واپس نہیں لوٹ سکیں گے۔

معید یوسف کا کہنا ہے کہ 2 ہفتے کے بعد بین الاقوامی پروازوں سے آنے والے مسافروں پر ہیلتھ سرٹیفکٹ کی شرط ختم ہوجائے گی ۔ دوسری جانب کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سندھ حکومت نے آج سے مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں کورونا سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔ فیصلے کے مطابق صوبے بھر میں تمام صنعتیں، ادارے، دکانیں بند رہیں گی تاہم اشیائے ضروریہ پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا، سبزی، پھل، دودھ، بیکری، میڈیکل اسٹورز، راشن کی دکانیں کھلی رہیں گی۔لاک ڈاؤن کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا جس کا دورانیہ 14 روز تک ہوسکتا ہے۔

سندھ حکومت کے مطابق یہ فیصلہ صوبے کے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے جس کا مقصد کورونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے، لاک ڈاؤن کا باضابطہ اعلان جلد کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا نے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا۔ محکمہ ریلیف کے جاری کردی اعلامیے کے مطابق کورونا وائرس کے سبب صوبے بھر میں 3 روز کے لیے لاک ڈاؤن کیا جارہا ہے، صوبے میں کریانہ، دودھ، ادویات ، بیکری، سبزی، فروٹ، پیٹرول پمپ کھلے رہیں گے جبکہ بقیہ سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگی۔

پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں شاپنگ مالز اور سیاحتی مقامات دو روز کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم بخت جواں، صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ آج رات 9 بجے سے منگل صبح 9 بجے تک شاپنگ مالز بند ہوں گے۔اس کولاک ڈاؤن نہیں کہا جا سکتا، سماجی میل جول میں فاصلے ہی وبا سے بچاؤ کا بہترین طریقہ ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ شہری آئندہ 2 روز اپنے گھروں میں رہیں، میڈیکل سٹورز، سبزی منڈی، کریانہ سٹورز کھلیں رہیں گے۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر کوئی پابندی نہیں کی جا رہی۔

بلوچستان میں بھی شاپنگ مالز ، ریسٹورنٹ ، پبلک ٹرانسپورٹ اور بازار 3 ہفتے کے لیے بند کر دیے گئے۔کوورونا وائرس کے پیش نظر پاک ایران سرحد 28 ویں روز بھی بند رہی ، گزشتہ ایران سے مزید 27 زائرین اور تاجر تفتان پہنچ گئے ،پی ڈی ایم اے حکام کا کہنا ہے کہ تفتان اور کوئٹہ میں موجود افراد کی تعداد 1245 ہو گئی جو قرنطینہ کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔