امریکا میں کورونا وائرس کے باعث کڑے اقدامات

90

 

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے امریکا میں سخت سے سخت ترین اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی حکومت نے سب سے بڑی ریاست کیلیفورنیا کے بعد الینائے، نیو یارک اور کینٹکی میں بھی اختتام ہفتہ سے مکمل لاک ڈاؤن کردیا ہے۔ اس اقدام سے مجموعی طور 7 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوں گے۔ اس دوران کسی بھی قسم کے اجتماع اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی عائد ہو گی، تاہم ادویات یا گھریلو ساز و سامان کی خریداری کے لیے باہر نکلنے کی اجازت ہو گی۔ لاک ڈاؤن کے باعث امریکا کے 3 بڑے شہر نیویارک، لاس اینجلس اور شکاگو بھی بند ہیں۔ سان فرانسسکو اور سان ڈیاگو بھی لاک ڈاؤن میں ہیں۔ نیویارک کے گورنر انڈریو کوؤمو نے جمعہ کے روز کہا کہ اب زندگی معمول کے مطابق نہیں رہی ہے۔ اسے تسلیم کریں، اس کا ادراک کریں اور اس صورتِ حال کا مقابلہ کریں۔ کوؤمو نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن اتوار سے شروع ہو جائے گا اور وہ تمام افراد جنہیں انتہائی ضروری کام نہ ہو، اپنے گھروں سے نہ نکلیں۔ اس کے علاوہ ریاست میں تمام تقریبات اور اجتماعات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ گورنر نے خبردار کیا ہے کہ اگر انفیکشن موجودہ شرح سے بڑھتے رہے تو ممکنہ طور پر ریاست نیویارک کو آیندہ 45 روز کے اندر اندر اسپتالوں میں بستروں کی موجودہ گنجایش سے دو گنا کی ضرورت ہو گی۔ اضافی بستر امریکی فوج سے آ سکتے ہیں، جو ایک بحری جہاز پر مشتمل اسپتال نیویارک کی بندرگاہ بھیجنے کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ دوسری جانب ریاست الینوائے کے گورنر جے بی پرٹزکر نے بھی ایسے ہی احکامات جاری کیے ہیں، جو ہفتے سے ہی نافذ ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب نائب امریکی صدر مائیک پنس کے عملے کے ایک رکن میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ متاثرہ افسر نائب صدر سے مسلسل ملتا بھی رہا ہے۔