معراج النبی ﷺ کا سفر نامہ

195

 

سیدابوالاعلیٰ مودودی

معراج پیغمبر اسلامﷺ کی زندگی کے ان واقعات میں سے ہے جنہیں دنیا میں سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی ہے ۔ عام روایت کے مطابق یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے 27 رجب کی شام کو پیش آیا۔ اس کا ذکر قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ معراج کس غرض کے لیے ہوئی تھی اور خدا نے اپنے رسول کو بلا کر کیا ہدایات دی تھیں۔ حدیث یہ بتاتی ہے کہ معراج کس طرح ہوئی اور اس سفر میں کیا واقعات پیش آئے ۔اس واقعہ کی تفصیلات 28ہمعصر راویوں کے ذریعہ سے ہم تک پہنچی ہیں۔ سات راوی وہ ہیں جو خود معراج کے زمانہ میں موجود تھے اور21وہ جنہوں نے بعد میں نبیﷺ کی اپنی زبان مبارک سے اس کا قصہ سنا۔ مختلف روایتیں قصہ کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالتی ہیں اور سب کو ملانے سے ایک ایسا سفر نامہ بن جاتا ہے جس سے زیادہ دلچسپ، معنی خیز اور نظر افروز سفر نامہ انسانی لٹریچر کی پوری تاریخ میں نہیں ملتا۔حضرت محمدﷺ کو پیغمبری کے منصب پر سرفراز ہوئے بارہ سال گزر چکے تھے ۔ 52برس کی عمر تھی۔ حرم کعبہ میں سو رہے تھے ۔ یکایک جبرئیل ؑ فرشتے نے آ کر آپﷺ کو جگایا۔ نیم خفتہ اور نیم بیدار حالت میں اٹھا کر آپﷺ کو زمزم کے پاس لے گئے ، سینہ چاک کیا’ زمزم کے پانی سے اس کو دھویا’ پھر اسے حلم اور بردباری اور دانائی اور ایمان و یقین سے بھر دیا۔ اس کے بعد آپﷺ کی سواری کے لیے ایک جانور پیش کیا جس کا رنگ سفید اور قد خچر سے کچھ چھوٹا تھا۔ برق کی رفتار سے چلتا تھا اور اسی مناسبت سے اس کا نام ‘‘براق’’ تھا۔ پہلے انبیاء بھی اس نوعیت کے سفر میں اسی سواری پر جایا کرتے تھے ۔ جب آپ ﷺ سوار ہونے لگے تو وہ چمکا’ جبرئیل ؑ نے تھپکی دی اور کہا ‘‘دیکھ کیا کرتا ہے ، آج تک محمدﷺ سے بڑی شخصیت کا کوئی انسان تجھ پر سوار نہیں ہوا ہے ۔’’ پھر آپﷺ اس پر سوار ہوئے اور جبرئیل ؑ نے کہا۔ اس جگہ آپﷺ ہجرت کرکے آئیں گے ۔
دوسری منزل طورسینا کی تھی جہاں خدا حضرت موسٰیؑ سے ہم کلام ہوا۔ تیسری منزل بیت اللحم کی تھی حضرت عیسٰیؑ پیدا ہوئے ۔ چوتھی منزل پر بیت المقدس تھا جہاں براق کا سفر ختم ہوا۔اس سفر کے دوران میں ایک جگہ کسی پکارنے والے نے پکارا’ ادھر آئو’ آپﷺ نے توجہ نہ کی۔ جبرئیل نے بتایا’ یہ یہودیت کی طرف بلا رہا تھا۔دوسری طرف سے آواز آئی۔ ادھر آئو’ آپ ﷺ اس کی طرف بھی ملتفت نہ ہوئے ۔ جبرئیل ؑ نے کہا: یہ عیسائیت کا داعی تھا پھر ایک عورت نہایت بنی سنوری نظر آئی اور اس نے اپنی طرف بلایا۔ آپ نے اس سے بھی نظر پھیر لی۔ جبرئیل نے کہا ’ یہ دنیا تھی۔ پھر ایک بوڑھی عورت سامنے آئی۔ جبرئیل ؑ نے کہا دنیا کی عمر کا اندازہ اس کی عمر سے کرلیجیے ۔ پھر ایک اور شخص ملا جس نے آپﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ مگر آپﷺ اسے بھی چھوڑ کر آگے بڑھ گئے ۔ جبرئیل ؑ نے کہا یہ شیطان تھا جو آپﷺ کو راستے سے ہٹانا چاہتا تھا۔بیت المقدس پہنچ کر آپﷺ براق سے اتر گئے اور اسی مقام پر اسے باندھ دیا جہاں پہلے انبیا اسے باندھا کرتے تھے ۔ ہیکل سلیمان میں داخل ہوئے تو ان سب پیغمبروں کو موجود پایا جو ابتدائے آفرینش سے اس وقت تک دنیا میں پیدا ہوئے تھے ۔ آپﷺ کے پہنچتے ہی نماز کی صفیں بندھ گئیں۔ سب منتظر تھے کہ امامت کے لیے کون آگے بڑھتا ہے ۔ جبرئیل ؑ نے آپﷺ کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھا دیا اور آپﷺ نے سب کو نماز پڑھائی۔
پھر آپﷺ کے سامنے تین پیالے پیش کیے گئے ۔ ایک میںپانی، دوسرے میں دودھ’ تیسرے میں شراب۔ آپ ﷺنے دودھ کا پیالہ اٹھا لیا۔ جبریلؑ نے مبارکباد دی کہ آپﷺ فطرت کی راہ پا گئے ۔اس کے بعد ایک سیڑھی آپ ﷺکے سامنے پیش کی گئی اور جبرئیل ؑ اس کے ذریعہ سے آپﷺ کو آسمان کی طرف لے چلے ۔ عربی زبان میں سیڑھی کو معراج کہتے ہیں ا ور اسی مناسبت سے یہ سارا واقعہ معراج کے نام سے مشہور ہے ۔
پہلے آسمان پر پہنچے تو دروازہ بند تھا۔ محافظ فرشتوں نے پوچھا: کون آتا ہے ؟ جبرئیل ؑ نے اپنا نام بتایا۔ پوچھا’ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ جبرئیل ؑ نے کہا ، محمدﷺ پوچھا: کیا انہیں بلایا گیا ہے ؟ کہا، ہاں۔ تب دروازہ کھلا اور آپﷺ کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ یہاں آپﷺ کا تعارف فرشتوں اور انسانی ارواح کی ان بڑی بڑی شخصیتوں سے ہوا جو اس مرحلہ پر مقیم تھیں۔ ان میں نمایاں شخصیت ایک ایسے بزرگ کی تھی جو انسانی بناوٹ کا مکمل نمونہ تھی۔ چہرے مہرے اور جسم کی ساخت میں کسی پہلو سے کوئی نقص نہ تھا۔ جبرئیل ؑ نے بتایا: یہ آدمؑ ہیں، آپﷺ کے مورثِ اعلیٰ۔ ان بزرگ کے دائیں بائیں بہت لوگ تھے ۔ وہ دائیں جانب دیکھتے تو خوش ہوتے اور بائیں جانب دیکھتے تو روتے ۔ پوچھا یہ کیا ماجرا ہے ؟ بتایا کہ یہ نسل آدمؑ ہے ۔ آدم اپنی اولاد کے نیک لوگوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور برے لوگوں کو دیکھ کر روتے ہیں۔پھر آپﷺ سدرۃ المنتہی پر پہنچ گئے جو پیش گاہ رب العزت اور عالم خلق کے درمیان حد فاصل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ نیچے سے جانے والے یہاں رک جاتے ہیں اور اوپر سے احکام اور قوانین براہ راست یہاں آتے ہیں۔
اسی مقام کے قریبآپﷺ کوجنت کا مشاہدہ کرایا گیا اور آپﷺ نے دیکھا کہ اللہ نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ مہیا کر رکھا ہے جو کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی ذہن میں اس کا تصور تک گزر سکا۔سدرۃ المنتہیٰ پر جبرئیل ؑ ٹھہر گئے اورآپﷺ تنہا آگے بڑھے ۔ ایک بلند ہموار سطح پر پہنچے تو بارگاہِ جلال سامنے تھی۔ ہم کلامی کا شرف بخشا گیا جو باتیں ارشاد ہوئیں ان میں سے چند یہ ہیں:1۔ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔2۔سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں تعلیم فرمائی گئیں۔3۔شرک کے سوا دوسرے سب گناہوں کی بخشش کا امکان ظاہر کیا گیا۔4۔ارشاد ہوا کہ جو شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اس کے حق میں ایک نیکی لکھ لی جاتی ہے اور جب وہ اس پر عمل کرتا ہے تو دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں مگر جو برائی کا ارادہ کرتا ہے اس کے خلاف کچھ نہیں لکھا جاتا اور جب وہ اس پر عمل کرتا ہے تو ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے ۔پیشیٔ خداوندی سے واپسی پر نیچے اترے تو حضرت موسیٰؑ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے روداد سن کر کہا میں بنی اسرائیل کا تلخ تجربہ رکھتا ہوں۔ میرا اندازہ ہے کہ آپﷺ کی امت پچاس نمازوں کی پابندی نہیں کرسکتی۔ جایئے اور کمی کے لیے عرض کیجیے ۔ آپﷺ گئے اور اللہ جل شانہ’ نے 10نمازیں کم کردی۔ پلٹے تو حضرت موسیٰؑ نے پھر وہی بات کہی۔ ان کے کہنے پر آپﷺ بار بار اوپر جاتے رہے اور ہر بار دس نمازیں کم کی جاتی رہیں۔ آخر پانچ نمازوں کی فرضیت کا حکم ہوا اور فرمایا گیا کہ یہی پچاس کے برابر ہیں۔واپسی کے سفر میں آپﷺ اسی سیڑھی سے اتر کر بیت المقدس آئے ۔ یہاں پھر تمام پیغمبر موجود تھے ۔ آپﷺ نے ان کو نماز پڑھائی جو غالباً فجر کی نماز تھی۔ پھر براق پر سوار ہوئے اور مکہ مکرمہ واپس پہنچ گئے ۔حرم کعبہ میں پہنچے تو ابو جہل سے آمنا سامنا ہوا۔ اس نے کہا’ کوئی تازہ خبر؟ فرمایا ہاں’ پوچھا کیا؟ فرمایا کہ میں آج کی رات بیت المقدس گیا تھا۔کہا: بیت المقدس؟ راتوں رات ہو آئے ؟ اور صبح یہاں موجود؟ فرمایا: ہاں، کہا :قوم کو جمع کروں؟ سب کے سامنے یہی بات کہو گے ؟ فرمایا: بے شک، ابوجہل نے آوازیں دے دے کر سب کو جمع کرلیا اور کہا لو اب کہو۔ آپﷺ نے سب کے سامنے پورا قصہ بیان کردیا۔ لوگوں نے مذاق اڑانا شروع کردیا۔ دو مہینہ کا سفر ایک رات میں؟ ناممکن! محال! پہلے تو شک تھا اب یقین ہوگیا کہ تم دیوانے ہوگئے ہو۔آناً فاناً یہ خبر تمام مکہ میں پھیل گئی۔ بہت سے مسلمان اس کو سن کر اسلام سے پھر گئے ۔ لوگ اس امید پر حضرت ابوبکرؓ کے پاس پہنچے کہ یہ محمدﷺ کے دست راست ہیں،یہ پھر جائیں تو اس تحریک کی جان ہی نکل جائے ۔ انہوں نے یہ قصہ سن کر کہا اگر واقعی محمدﷺ نے یہ واقعہ بیان کیا ہے تو ضرور سچ ہوگا’ اس میں تعجب کی کیا بات ہے ۔ میں تو روز سنتا ہوں کہ ان کے پاس آسمان سے پیغام آتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتا ہوں۔پھر حضرت ابوبکرؓ حرم کعبہ میں آئے ، رسول اللہﷺ موجود تھے اور ہنسی اڑانے والا مجمع بھی۔ پوچھا’ کیا واقعی آپﷺ نے ایسا فرمایا ہے ؟ جواب دیا’ ہاں۔ کہا بیت المقدس میرا دیکھا ہوا ہے ’ آپﷺ وہاں کا نقشہ بیان کریں۔ آپﷺ نے فوراً نقشہ بیان کرنا شروع کردیا اور ایک ایک چیز اس طرح بیان کی کہ گویا بیت المقدس سامنے موجود ہے اور دیکھ دیکھ کر اس کی حقیقت بتا رہے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ کی اس تدبیر سے جھٹلانے والوں کو ایک شدید ضرب لگی۔ وہاں بکثرت ایسے آدمی موجود تھے جو تجارت کے سلسلہ میں بیت المقدس جاتے رہتے تھے ۔ وہ سب دلوں میں قائل ہوگئے کہ نقشہ بالکل صحیح ہے ۔ اب لوگ آپﷺ کے بیان کی صحت کا مزید ثبوت مانگنے لگے ۔ فرمایا: جاتے ہوئے میں فلاں مقام پر فلاں قافلہ پر سے گزرا جس کے ساتھ یہ سامان تھا’ قافلہ والوں کے اونٹ براق سے بھڑکے ’ ایک اونٹ فلاں وادی کی طرف بھاگ نکلا۔ میں نے قافلہ والوں کو اس کا پتہ دیا۔ واپسی پر فلاں وادی میں فلاں قبیلہ کا قافلہ مجھے ملا۔ سب لوگ سو رہے تھے ۔ میں نے ان کے برتن سے پانی پیا اور اس بات کی علامت چھوڑ دی کہ اس سے پانی پیا گیا ہے ۔ ایسے ہی کچھ اور اتے پتے آپﷺ نے دیئے اور بعد میں آنے والے قافلوں سے ان کی تصدیق ہوگئی۔ اس طرح زبانیں بند ہوگئیں مگر دل یہی سوچتے رہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ آٓج بھی بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ یہ کیسے ہوانبیﷺ کی ملاقات ایک ایسے فرشتے سے ہوئی جو نہایت ترش روئی سے ملا۔ آپﷺ نے جبرئیل سے پوچھا’ اب تک جتنے فرشتے ملے تھے سب خندہ پیشانی اور بشاش چہروں کے ساتھ ملے ۔ ان حضرت کی خشک مزاجی کا کیا سبب ہے ؟ جبرئیل ؑ نے کہا : اس کے پاس ہنسی کا کیا کام’ یہ تو دوزخ کا داروغہ ہے ۔ یہ سن کر آپﷺ نے دوزخ دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے یکایک آپﷺ کی نظر کے سامنے سے پردہ اٹھا دیا اور دوزخ اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ نمودار ہوگئی۔ اس مرحلہ سے گزر کر آپﷺ دوسرے آسمان پر پہنچے ۔ یہاں کے اکابر میں دو نوجوان سب سے ممتاز تھے ۔ تعارف پر معلوم ہوا یہ یحیٰیؑ اور عیسیٰؑ ہیں۔تیسرے آسمان پر آپﷺ کا تعارف ایک ایسے بزرگ سے کرایا جن کا حسن عام انسانوں کے مقابلہ میں ایسا تھا جیسے تاروں کے مقابلے میں چودھویں کا چاند معلوم ہوا۔ یہ یوسف علیہ السلام ہیں۔چوتھے آسمان پر حضرت ادریسؑ، پانچویں پر حضرت ہارونؑ’ چھٹے پر حضرت موسیٰؑ آپﷺ سے ملے ۔ ساتویں آسمان پر پہنچے تو ایک عظیم الشان محسن (بیت المعمور) دیکھا جہاں بے شمار فرشتے آتے جاتے تھے ۔ اس کے پاس آپﷺ کی ملاقات ایک ایسے بزرگ سے ہوئی جو خود آپﷺ سے بہت مشابہ تھے ۔ تعارف پر معلوم ہوا حضرت ابراہیمؑ ہیں۔
سفر معراج میںآپﷺ کو تفصیلی مشاہدہ کا موقع دیا گیا۔ ایک جگہ آپ ﷺنے دیکھا کچھ لوگ کھیتی کاٹ رہے ہیں اور جتنی کاٹتے ہیں اتنی ہی زیادہ بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا: یہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔پھر دیکھا کچھ لوگ ہیں جن کے سر پتھروں سے کچلے جارہے ہیں۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا: یہ وہ لوگ ہیں جن کی سرگرانی ان کو نماز کے لیے اٹھنے نہ دیتی تھی۔کچھ اور لوگ دیکھے جن کے کپڑوں میں آگے اور پیچھے پیوند لگے ہوئے تھے اور وہ جانوروں کی طرح گھاس چر رہے تھے ۔ پوچھا: یہ کون ہیں؟ کہا گیا: یہ وہ ہیں جو اپنے مال میں سے زکوٰۃ خیرات کچھ نہ دیتے تھے ۔پھر ایک شخص کو دیکھا کہ لکڑیوں کا گٹھا جمع کرکے اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اور جب وہ نہیں اٹھتا تو اس میں کچھ اور لکڑیاں بڑھا لیتا ہے ’ پوچھا یہ کون احمق ہے ؟ بتایا گیا: یہ وہ شخص ہے جس پر امانتوں اور ذمہ داریوں کا اتنا بوجھ تھا کہ اٹھا نہ سکتا تھا مگر یہ ان کو کم کرنے کے بجائے اور زیادہ ذمہ داریوں کا بار اپنے اوپر لادے چلا جاتا تھا۔ پھر دیکھا کہ کچھ لوگوں کی زبانیں اور ہونٹ قینچیوں سے کترے جارہے ہیں۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا: یہ غیرذمہ دار مقرر ہیں جو بلا تکلف زبان چلاتے اور فتنہ برپا کیا کرتے تھے ۔ایک اور جگہ دیکھا کہ ایک پتھر میں ذرا سا شگاف ہوا اور اس سے ایک بڑا موٹا سا بیل نکل آیا۔ پھر وہ بیل اسی شگاف میں جانے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر نہ جا سکا۔ پوچھا یہ کیا معاملہ ہے ؟ کہا گیا: یہ اس شخص کی مثال ہے جو غیر ذمہ داری کے ساتھ ایک فتنہ انگیز بات کر جاتا ہے ’ پھر نادم ہو کر اس کی تلافی کرنا چاہتا ہے مگر نہیں کرسکتا۔ایک اور مقام پر کچھ لوگ تھے جو اپنا گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے ۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا: یہ دوسروں پر زبان طعن دراز کرتے تھے ۔انہی کے قریب کچھ اور لوگ تھے جن کے ناخن تانبے کے تھے ا ور وہ اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے ۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرتے اور ان کی عزت پر حملے کیا کرتے تھے ۔کچھ اور لوگ دیکھے جن کے ہونٹ اونٹوں کے مشابہ تھے اور وہ آگ کھا رہے تھے ۔ پوچھا: یہ کون ہیں؟ کہا گیا یہ یتیموں کا مال ہضم کرتے تھے ۔ پھر دیکھا کچھ لوگ ہیں جن کے پیٹ بے انتہا بڑے اور سانپوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ آنے جانے والے ان کو روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں مگر وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتے ۔ پوچھا: یہ کون ہیں؟ کہا گیا: یہ سودخور ہیں۔پھر کچھ اور لوگ نظر آئے جن کے ایک جانب نفیس چکنا گوشت رکھا تھا اور دوسری جانب سڑا ہوا گوشت جس سے سخت بدبو آرہی تھی۔ وہ اچھا گوشت چھوڑ کر سڑا ہوا گوشت کھا رہے تھے ۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا: یہ وہ مرد اور عورتیں ہیں جنہوں نے حلال بیویوں اور شوہروں کے ہوتے حرام سے اپنی خواہش نفس پوری کی۔پھر دیکھا کچھ عورتیں اپنی چھاتی کے بل لٹک رہی ہیں۔ پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا کہ یہ وہ عورتیں ہیں جنہوں نے اپنے شوہروں کے سر ایسے بچے منڈھ دیئے ’ جو ان کے نہ تھے ۔