سرکاری اسپتال، جراثیم کی آماجگاہ

400

ابھی تک یہ بات سمجھ میں نہیں آسکی کہ حکومت چاہتی کیا ہے۔ کورونا کے نام پر جو بھی اقدامات کیے جارہے ہیں ، کم ازکم ان سے تو کورونا وائرس کو پھیلنے سے نہیں بچایا جاسکتا ۔ کورونا کا وائرس ہو یا کسی اور بیماری کا جرثومہ ، ان سب کا سب سے زیادہ زور اسپتالوں ہی میں ہوتا ہے مگر حکومت کی سب سے کم توجہ اسپتالوں ہی پر ہے ۔ اس کے علاوہ صفائی ہی واحد ہتھیار ہے جو بیماریوں کی روک تھام میں سب سے زیادہ معاون ہے ۔ اس وقت کراچی سمیت پورا سندھ صفائی ستھرائی ہی کے مسئلے سے سب سے زیادہ نبرد آزما ہے۔ کورونا کے مریضوں کی واحد امید اسپتال ہی ہیں ۔ لے دے کر ایک آغاخان اسپتال ہی بچتا ہے جس سے بے انتہاشکایتوں اور انتہائی مہنگے علاج کے باوجودآغا خان اسپتال میں لوگ اپنے مریض اس امید پر لے کر پہنچ جاتے ہیں کہ شاید ان کے مریض کا یہاں پر بہتر علاج ہوسکے اور وہ بچ جائے ۔ آغا خان اسپتال کی اپنی ایک گنجائش ہے اور وہ تین کروڑ کی آبادی کا بوجھ نہیں سہار سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ گنجائش سے زاید مریضوں کی آمد پر آغا خان اسپتال نے سنیچر کو نئے مریضوں کو اسپتال میں داخل ہونے ہی سے روک دیا ۔ سرکاری اسپتالوں کی جو حالت زار ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔گورنر سندھ ، وزیر اعلیٰ اور ان کے مشیر و وزیر ایک مرتبہ سرکاری اسپتالوں کا بلا اطلاع دورہ تو کرکے دیکھیں پھر انہیں علم ہوگا کہ یہ اسپتال کورونا تو کیا ، کسی بھی مرض کے علاج کے قابل ہیں ۔ کورونا کے علاج کے لیے چین نے ہنگامی طور پر دس دس ہزار بستروں کے عارضی اسپتال دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف کھڑے کردیے تھے بلکہ ان میں علاج بھی شروع ہوگیا تھا ۔ سندھ کی تو یہ صورتحال ہے کہ جو اسپتال موجود ہیں ، وہیں پر کوئی سہولت موجود نہیں ہے ۔ اس پر سید مراد علی شاہ فرماتے ہیں کہ کورونا کو شکست دیں گے ۔ کراچی میں واقع سول اسپتال ، جناح اسپتال ، عباسی شہید اسپتال سمیت کوئی بھی چھوٹا بڑا اسپتال اس قابل نہیں ہے کہ وہاںسے کوئی مریض صحتیاب ہوکر واپس آسکے ۔ ان اسپتالوں میں نہ تو وارڈوں میں کوئی جراثیم کش اسپرے ہوتا ہے ۔ نہ ہی کبھی وائٹ واش کروایا جاتاہے ۔واش روم ٹوٹے ہوئے ہیں اور ان کے نلکوں میں پانی نہیں ہے ، وارڈوں میں بستر بغیر چادر کے ہوتے ہیں اور مریض گھر سے چادر ، تکیے اور کمبل لے کر آتے ہیں ۔ ہر طرف کھٹمل اور لال بیک دوڑتے نظر آتے ہیں کہ سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والے طبی و غیر طبی عملے کے گھر بھی اب ان سے محفوظ نہیں رہے ہیں۔ ان ہی اسپتالوں میں کام کرنے والے یہی لوگ کورونا کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہیں مگر ا س طرح کہ ابھی تک سندھ حکومت نے کسی بھی ایک اسپتال میں طبی عملے کو عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق کوئی کوروناکٹ فراہم نہیں کی ہے ۔ ابھی تک سندھ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر اسپتالوں میں صفائی ستھرائی کا کام شروع نہیں کروایا ہے اور نہ ہی ان کے سربراہوں سے اس بارے میں باز پرس کی ہے کہ یہ اسپتال گندگی کے ڈھیر میں کیوں دفن ہیں ۔ ابھی تک کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں کچرے کے ڈھیر نہ تو صاف ہوئے ہیں اور نہ ہی سڑکوں اور گلیوں میں بہتے گٹر درست ہوئے ہیں ۔ اگر مراد علی شاہ کورونا کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہیں تو پہلے سرکاری اسپتالوں کو تو درست حالت میں لائیں ۔ اگر صوبے کے سارے اسپتال درست کردیے جائیں اور ان میں سے چند کو صرف اور صرف کورونا کے لیے مختص کردیا جائے تو بھی کورونا کے مریضوں کی اشک شوئی ہوسکے گی ۔ دوسری صورت میں کورونا یا کوئی اور وبا کسی مریض سے دوسرے مریض کو لگے یا نہ لگے مگر اسپتالوں ، گلیوں اور کوچوں میں پھیلی یہ گندگی ضرور کراچی کے باسیوں کے لیے جاں لیوا ثابت ہوگی ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فرمایا ہے کہ پاکستانی عوام کورونا وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ۔ عوام اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں مگر شاہ محمود قریشی یہ تو فرمائیں کہ حکومت کورونا سے عوام کو بچانے میں خود کتنی سنجیدہ ہے ۔ کورونا کے علاج اور اس کے مریضوں کو سہولتوں کی فراہمی کے سوا حکومت ہر محاذ پر سنجیدہ ہے ۔ تفتان میں قائم قرنطینہ کیمپ میں ہی سہولتوں کی دستیابی اور صفائی ستھرائی کی صورتحال دیکھ کر کوئی بھی اندازہ کرسکتا ہے کہ حکومت کتنی سنجیدہ ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نیازی نے بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں کے لیے ہیلتھ سرٹیفکٹ کی شرط ختم کرنے کا اعلان کیا مگر بروقت اس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا جس کے باعث یورپ اور امریکا کے ائرپورٹوں پر غیر ملکی فضائی کمپنیوں نے ان مسافروں کو آف لوڈ کردیا ۔ اب حکومت پاکستان نے بین الاقوامی مسافروں کے وطن واپس آنے ہی پر چار اپریل تک پابندی عاید کردی ہے ۔ یوں یہ مسافر محض حکومت کے غیر سنجیدہ رویے کی بناء پر رُل گئے ۔ اب تک وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کا یکساں رویہ ہے اور وہ ہے میڈیا پر کورونا کو دفن کردینا ۔ عملی طور پر دونوں حکومتوں نے جو بھی اقدامات کیے ہیں وہ تسلی بخش ہونا تو دور کی بات ہے ، بیماریوں کے مزید پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں ۔ شاہ محمود قریشی خود بھی سنجیدہ ہوجائیں اور یہی تلقین اپنی حکومت کو بھی کریں تو یہ ہی ملک اور قوم کے لیے بہتر ہوگا ۔ دوسری صورت میں سارے سرکاری عمال صرف اور صرف مریضوں اور لاشوں کو گننے کا کام کرتے رہیں گے اور ان کی غفلت سے کورونا وائرس ملک میں سچ مچ کی وبا بن جائے گی ۔