معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کو 24 مارچ تک رہا کرنے کا حکم

718

اسلام آباد ہائیکورٹ نے معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کی رہائی سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کی رہائی کا عمل24 مارچ تک مکمل کیا جائے۔

فیصلے کے مطابق سزا صرف قیدیوں کی آزادی کو ختم کرتی ہے،ان سے زندگی کا حق نہیں چھینا جا سکتا ، کسی صورت بھی کسی قیدی سے اس  کی  زندگی جیسے بنیادی آئینی حقوق نہیں چھینے جا سکتے ، ایک قیدی کے پاس طبی سہولیات کیلیے ریاست پر انحصارکے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ماتحت عدالتوں سے بھیجے گئے 1362 قیدی اڈیالہ میں ہیں، اڈیالہ میں 2100 قیدیوں کی گنجائش ہے مگر اس وقت 5000 قیدی موجود ہیں، صوبائی حکومتیں دیگر قیدیوں  سے متعلق اقدامات کیلئے بھی اختیار رکھتی ہیں، جیلوں میں موجود کئی قیدی 55 سال سے بھی زیادہ عمر کے ہیں۔

فیصلے  میں قرار دیا گیا کہ ریاست پاکستان نے کورونا سے نمٹنےکیلیے ایک جامع ایکشن پلان بنایا ہے، ایکشن پلان کے تحت “سماجی فاصلے” کی پالیسی اختیار کی گئی ہے، پرہجوم جیلوں میں  سماجی فاصلے کی پالیسی پر عملدرآمد ممکن نہیں، ڈی سی اسلام آباد، جوڈیشل افسران جلد از جلد معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کی شناخت کریں ، عدالت توقع رکھتی ہے کہ معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کی رہائی کا عمل جلد مکمل ہو گا۔