کورونا وائرس سے بچائو کے اقدامات کو منافع خوروں نے کمائی کا ذریعہ بنالیا

337

ماتلی (نمائندہ جسارت) حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو ناجائز منافع خوروں نے اپنی کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے۔ ماتلی میں شہریوں کو کورونا وائرس کے خوف نے اتنا پریشان نہیں کیا تھا جتنا اشیا خورونوش کے نرخوں میں اضافہ کرنے والوں نے پریشان کیا ہے۔ ماتلی کی ہول سیل مارکیٹ میں ایک روز قبل تک 50 کلو چینی کا جو بیگ 3600 روپے میں فروخت کیا جارہا تھا وہ 4 سو روپے کے اضافے کے ساتھ اب 4 ہزار روپے میں فروخت کیا جارہا ہے، چینی کے نرخ فی کلو 8 روپے بڑھ گئے ہیں۔ ماتلی شہر کی عام کریانہ کی دکانوں پر چینی 82 روپے، گلی محلے کی دکانوں پر 85 روپے اور دیہی علاقوں میں 90 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہورہی ہے۔ ماتلی میں کوکنگ آئل کے 5 کلو والے ڈبہ پر فی کلو 40 روپے کے حساب سے یکمشت 200 روپے بڑھا دیے گئے جبکہ کھلا دو نمبر کوکنگ آئل 200 سے 180 روپے اور پیکٹ والا عام برانڈ کا پیکٹ 190 روپے لیٹر فروخت کیا جارہا ہے۔ ماتلی کے ایک بڑے ڈیلر نے یہ انکشاف کیا کہ پاکستان کی بڑی کوکنگ آئل اور گھی تیار اور سپلائی کرنے والی پانچ بڑی کمپنیوں نے عالمی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود نرخ کم کرنے کے بجائے اضافہ کردیا ہے۔ گندم کا آٹا صرف ایک روز قبل تک 42 سے 45 روپے تک فروخت ہورہا تھا وہ اب 52 روپے اور چاول کا آٹا 45 روپے کے حساب سے فروخت ہورہا ہے۔ ایک روز قبل تک ماتلی میں 30 روپے کلو فروخت ہونے والا آلو 50 روپے، پیاز 50 روپے سے بڑھا کر 70 روپے فی کلو، ٹماٹر 10روپے سے بڑھا کر 20 روپے فی کلو، بند گوبھی 40 سے بڑھا کر 60 روپے فی کلو اور 70 روپے فی کلو فروخت ہونے والے مٹر 120 روپے میں فروخت ہورہے ہیں۔ مارکیٹ کمیٹی ماتلی کے اہلکار فی آڑھتی ایک سو سے دو سو روپے اور نرخ نامے کی فہرست کے فی ریڑھی 10 روپے وصول کرنے لگے جبکہ ضلع بدین پرائس کنٹرول کمیٹی کی انتظامیہ تو ماتلی شہر میں نظر ہی نہیں آرہی ہے۔