ٹھٹھہ، سندھ میں بڑی حد تک کورونا وائرس سے بچائو کے لیے کوششیں

117

ٹھٹھہ (نمائندہ جسارت) کورونا وائرس نے جہاں دنیا کے ایک سو سے زائد ملکوں میں تباہی مچادی ہے اور ہزاروں اموات بھی واقع ہوئی ہیں چین، اٹلی، امریکا، سعودی عرب، ایران کے بعد اب کورونا وائرس پاکستان میں بھی آچکا ہے۔ اس سلسلے میں سندھ حکومت کی کورونا کے حوالے سے حکمت عملی کے باعث سندھ صوبے میں بڑی حد تک کورونا وائرس سے بچائو کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں جس میں پہلے مرحلے میں پرہجوم تقریبات، شادیوں، بازاروں، ہوٹلوں اور شاپنگ ہال کو مکمل بند کروایا گیا ہے اس سلسلے میں جہاں پورے ملک میں سندھ حکومت کی کاوشوں کو خراج پیش کیا جا رہا ہے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ٹھٹھ ضلع کے مختلف علاقوں میں آئیسولیشن وارڈ قائم کیے گئے ہیں، سول اسپتال مکلی میں چار کمروں پر مشتمل آئسولیشن وارڈ قائم کیا گیا ہے جس میں جدید مشینری بھی فراہم کی گئی ہے گھارو میں رورل ہیلتھ سینٹر میں بھی آئسولیشن وارڈ بنائے گئے ہیں جبکہ ساکرو گھوڑاباڑی گاڑھو سمیت دیگر شہروں میں بھی آئسولیشن وارڈ بنائے گئے ہیں۔ دوسری طرف باخبر ذرائع کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ سو سے زائد افراد سعودی عرب سے ٹھٹھ پہنچ رہے ہیں جن کی مکمل اسکریننگ کے لیے ایلیمینٹری کالج میں وارڈ بھی تشکیل دیا جا رہا ہے، جس میں سعودی عرب ایران سمیت دیگر ممالک سے آنے والے ٹھٹھہ سے تعلق رکھنے والے مسافروں کی مکمل اسکریننگ کی جائے گی۔ کورونا وائرس نہ ہونے پر مسافروں کو اپنے گھر روانہ کیا جائے گا۔ کورونا وائرس کے حوالے حکومت سندھ کی جانب سے ٹھٹھہ میں مقرر نگراں صوبائی مشیر سید اعجاز شاہ شیرازی، ایم پی اے ٹھٹھہ سید ریاض شاہ شیرازی، ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ عثمان تنویر سمیت ضلعی انتظامیہ کی خصوصی توجہ اور کوششوں سے ٹھٹھہ میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے انتہائی اہم اقدامات کیے جارہے ہیں۔