مصر میں جعلی مقابلہ فوج نے 8 نوجوانوں کو شہید کردیا

200

قاہرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) مصری فوج نے شورش زدہ علاقے سینا میں جعلی مقابلے میں 8نوجوانوں کو شہید کرکے لاشوں کا مثلہ کیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ایک وڈیو بھی وائرل ہوئی،جس میں مصری فوج شہید کیے گئے نوجوان کی ہاتھ کاٹ کر لاش کو نذر آتش کررہا ہے۔ یہ وڈیو عبدالرحمن نامی فوجی نے بنائی، جو مصری فوج کی بٹالین103 سے تعلق رکھتا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے انکشاف کیا ہے کہ سینا میں مارے گئے نوجوان کسی تنظیم کے جنگجو نہیں، بلکہ معصوم شہری ہیں۔ جعلی مقابلوں کے واقعات شمالی سینا کے علاقے رفح یا بیر العبد میں پیش آئے ،جب کہ وڈیو بنانے والا فوجی قاہرہ سے تعلق رکھتا ہے اور سینا میں ان کارروائیوں کے دوران شریک تھا۔ ان انسانیت سوز ہلاکتوں پر عوام میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ مصر میں فوجی آمر عبدالفتاح سیسی نے سینا میں عسکریت پسندوں کے نام پر آپریشن شروع کررکھا ہے،جس کی آڑ میں وہ اپنے سیاسی ناقدین اور عوام کو ٹھکانے لگانے کا کام کررہے ہیں۔ اس سے قبل مصر میں امریکی سفیر اینی پیٹرسن نے بھی سیسی کی فوجی صلاحیت پر سوال اٹھایا تھا کہ جزیرہ نما سینا میں زیادہ سے زیادہ ایک ہزار جنگجو ہیں، لیکن فوجی آپریشن کو 7برس گزرجانے کے بعد بھی حکومت ان پر قابو نہیں پاسکی۔ رواں ماہ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں سینا میں فوجی آپریشن کے نام پر شہریوں کی ہلاکتوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔ قاہرہ حکومت کی کارروائیوں کے نتیجے میں سینا میں غذائی بحران پیدا ہوگیا ہے،جب کہ وہاں کے مکینوں کے دنیا سے رابطے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سیسی کی حکومت نے 2015ء میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ایک قانون پاس کیاتھا،جس کے ذریعے ملک بھر میں حکومتی ناقدین کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ پہلے بھی مصر میں آزادی اظہار رائے پر قدغنوں، حکومتی ناقدین پر اذیت خانوں میں تشدد اور سرکار پرست عدالتی نظام پر اپنی رپورٹوں میں تشویش کا اظہار کرچکی ہے۔