مدھیہ پردیش میں وزیراعلیٰ کے استعفے سے کانگریس حکومت ختم

125

بھوپال (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے اپنے عہدے سے استفا دے دیا ہے، جس کے بعد ریاست میں کانگریس پارٹی کی 15 ماہ پرانی حکومت کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق مدھیہ پردیش میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان تقریباً 2 ہفتے سے جاری سیاسی رسہ کشی کے بعد آخر کار کانگریس کو شکست ہوگئی جب کہ بی جے پی نے ایک بار پھر سے اقتدار میں آنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ ریاستی دارالحکومت بھوپال میں وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے پریس کانفرنس میں اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی پر اپنی حکومت کے خلاف مسلسل سازشیں کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ریاست کو ترقی کی راہ پرگامزن کرنے کی کوشش میں تھی اور بی جے پی کو اسی سے خوف تھا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی 15 ماہ پرانی حکومت کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے پاس مطلوبہ ارکان کی حمایت نہیں ہے، لہٰذا وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہورہے ہیں۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کی 222 رکنی اسمبلی میں اکثریت کے لیے 112 ارکان کی حمایت چاہیے تھی تاہم کانگریس کے 20 ارکان نے پارٹی سے استعفا دے دیا تھاسیاسی معرکہ آرائی کا آغاز رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں شروع ہوئی جب کانگریس کے سینئر رہنما جیوتی رادتیہ سندھیا نے پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور ان کے حامی 20 سے زائد ارکان اسمبلی نے بھی پارٹی کے خلاف بغاوت کی اور مستعفی ہوگئے۔ اکثریت ثابت کرنے کے لیے اسمبلی اجلاس طلب کیا گیا تو اسپیکر نے کورونا اور دیگر وجوہات پر اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس پر عدالت نے کمل ناتھ کو 20 مارچ کی شام 5 بجے تک اکثریت ثابت کرنے کا وقت دیا تھا، تاہم انہوں نے پارٹی قیادت سے صلاح مشورے کے بعد اس سے قبل ہی اپنے استعفے کا اعلان کردیا۔