شام میں بچوں کو انسانیت سوز حالات کا سامنا

202

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں جاری خانہ جنگی کو رواں ماہ 9 برس مکمل ہوچکے ہیں۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ’’یونیسف‘‘ نے بچوں کے حوالے سے خصوصی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شام میں عوامی انقلابی تحریک کے آغاز سے اب تک وہاں کے بچوں نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ان 9 برسوں کے دوران 5427 بچے جاں بحق اور 3739 زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران صرف گزشتہ برس 900 بچے جنگ کی نذر ہوئے، جب کہ 4619 کو فوجی مقاصد کے لیے بھرتی کیا گیا۔ یونیسف کے مطابق مارچ 2011ء سے اب تک 60 لاکھ شامی بچے پیدا ہوئے ہیں، جن میں سے 10لاکھ ہمسایہ ممالک میں پناہ گزیں گھرانوں میں ہوئے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اس وقت 75 لاکھ شامی بچوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ضرورت ہے، جن میں سے 50 لاکھ اس وقت بھی شامی سرزمین ہی پر موجود ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کے روز شامی مبصر برائے انسانی حقوق نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ شام میں گزشتہ 9 برس کے دوران ایک لاکھ 16 ہزار شہریوں سمیت 3 لاکھ 84 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ شامی مبصر کے مطابق مارچ 2011ء میں شروع ہونی والی اس خانہ جنگی میں ہلاک ہونے والوں میں بچوں اور خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ جب کہ ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد باشندے گھر بار ہوئے ہیں۔