کورونا سے بچائو، محض نمائشی اقدامات

510

ملک میں کورونا کے نام پر ایک ہنگامی صورتحال پید اکردی گئی ہے مگر کورونا سے بچاؤ کے لیے عملی اقدامات کہیں پر بھی نظر نہیں آرہے ۔ اب تک جتنے بھی اقدامات کیے گئے ہیںانہیں محض نمائشی ہی قرار دیا جاسکتا ہے ۔ پاکستان میں اگر کورونا نے وبائی صورتحال اختیار کی تو اس کے ذمہ دار کوئی اور نہیں خود وفاقی اورصوبائی حکومتیں ہی ہوں گی ۔ جب حکومت کے علم میں تھا کہ ایران میں کورونا نے وبائی صورتحال اختیار کرلی ہے تو حکومت کو سرحد پر ہی اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا چاہییں تھے۔ تفتان کے مقام پر اگر عالمی معیار کے مطابق قرنطینہ قائم کردیا جاتا تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی اور شاید کورونا کا ایک بھی مریض نہیں ہوتا ۔ تفتان کے مقام پر آنے والے زائرین کوآئسولیشن میں رکھنے کے بجائے خیموں میں مجمع کی صورت میں رکھا گیا ، جہاں پر بیت الخلا کی سہولت بھی درست طریقے سے موجود نہیں تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تفتان میں موجود جن افراد میں کورونا کا مرض نہیں تھا ، وہ بھی اس سے متاثر ہوگئے اور یوں حکومت نے خود سے ہی کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کرلیا ۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی سوال کیا ہے کہ ایک کمرے میں چار چار مریض رکھیں گے تو اس مرض پر کس طرح سے قابو پائیں گے ۔ ا س کے علاوہ دو وفاقی وزراء نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اسکریننگ کے بغیر آٹھ سو سے زاید زائرین کو تفتان سے نکلنے میں مدد دی جس کی وجہ سے آج ملک کے ہر شہر میں اس وبا کے پھلنے کے خدشات پید اہوگئے ہیں ۔ کراچی سمیت ہر اس علاقے کے اس وبا کی لپیٹ میں آنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں جہاں پر آبادی انتہائی گنجان ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف لیاری میں ایران سے آنے والے ایک ہزار افراد موجود ہیں ۔ لیاری سے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری عمارتوں کو آئیسو لیشن وارڈ بنایا جائے، صرف ایک اسپتال کافی نہیں۔ حکومت کی کورونا کے بارے میںاحمقانہ چلت پھرت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسپتالوں میں موجود عملہ ہی سب سے زیادہ کورونا کے خطرے میں ہے مگر اسپتالوں میں موجود یہ عملہ وفاقی و سندھ حکومت کی کسی گنتی ‘یا شمار میں نہیں ہے ۔ عملی طور پر سندھ میں اسپتالوں میں تعینات طبی و نیم طبی عملے کو کورونا سے بچاؤ کے لیے ضروری حفاظتی انتظامات نہ کرکے نہ صرف انہیں بلکہ پوری قوم کو خطرے میں ڈال گیا ہے ۔ سندھ کے کسی بھی سرکاری اور نجی اسپتال میں ڈاکٹروں ، نرسوں ، آیا یا خاکروبوں کو نہ تو N5 ماسک دیے گئے ہیں اور نہ ہی انہیں دستانے و سینیٹائزر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ اسپتالوں میں تعینات لاکھوں کی تعداد میں یہ عملہ کسی بھی وقت کورونا وائرس کا آسان شکار ثابت ہوسکتا ہے۔ جمعرات کو کراچی میں سول اسپتال کی نرسوں نے احتجاج بھی کیا کہ انہیں کورونا سے بچاؤ کے لیے صرف سادے سرجیکل ماسک دے دیے گئے ہیں جو کہ کورونا سے بچاؤ میں کسی بھی طرح سے معاون نہیں ہیں جبکہ دستانے وغیرہ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔سندھ حکومت نے کورونا سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن تو کردیا ہے مگر جہاں پر سب سے زیادہ کورونا سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے وہ اسپتال ہیں مگر انہیں ہی کم سے کم ضروری بنیادی سامان ماسک اور دستانے مہیا نہیں کیے گئے ہیں ۔ ضروری اقدامات نہ کرنے کے باعث ملتان میں طبی عملے میں کورونا سے متاثر ہونے کے کیس سامنے آئے ہیں ۔ خیبر پختون خوا میں بھی طبی عملے کے ایسے تین کیس سامنے آئے ہیں جنہیں بغیر کسی حفاظتی انتظام کے کورونا کے مریضوں کے علاج پر مجبور کیا گیا تھا ۔ان تین افراد میں سے ایک پیتھالوجسٹ ہیں جنہوں نے کورونا سے متاثرہ مریضوں کا خون ٹیسٹ کیا تھا جبکہ دیگر دو ڈاکٹروں میں ایک خاتون ڈاکٹر بھی ہیں جنہوں نے مردان میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے مریض کا علاج کیا تھا ۔ اب یہ تینوں ڈاکٹر قرنطینہ میں ہیں ۔ پنجاب کابینہ کے ارکان اس پرلڑ رہے ہیں کہ وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ کروڑوں روپے دو ماہ سے استعمال کیوں نہیں ہوئے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام ہی سرکاری اور نجی اسپتالوں میں نہ صرف N5 ماسک اور دستانے مہیا کیے جائیں بلکہ سرکاری اسپتالوں میں صفائی پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ سرکاری اسپتالوں میں وارڈز عمومی طور پر اور بیت الخلا خصوصی طور پر حکومت کی توجہ کے منتظر ہیں ۔ حکومت نمائشی طور پر ائرپورٹوں اور دیگر مقامات پر اسپرے تو کررہی ہے مگر اسپتالوں میں جو جراثیم کا گھر ہیں ،کوئی توجہ نہیں ہے ۔اگر حکومت کی کورونا سے بچاؤ کے یونہی غیر سنجیدہ اقدامات جاری رہے تو محدود سے محدود اندازے کے مطابق بھی اس کی دو فیصد آبادی کو کورونا میں مبتلا ہوسکتی ہے۔ کراچی کی آبادی اس وقت تین کروڑ سے زاید نفوس پر مشتمل ہے ۔دو فیصد کا مطلب ہے کہ کم ازم کم چھ لاکھ افراد اس کا شکار ہوسکتے ہیں ۔ اگر ان چھ لاکھ مریضوں میں سے تین فیصد یعنی 18 ہزار افراد کو بھی طبی سہولتوں کی ضرورت پڑی تو حکومت کے پاس ایسا کوئی انتظام نہیں ہے ۔ یوں ایک ایسے شہر میں جو کورونا سے محفوظ تھا اور ہے ، محض سرکاری اقدامات کے نتیجے میں کسی بھی المناک صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے ۔ ہم حکومت سے درخواست کریں گے کہ وہ اس ضمن میں عالمی معیار کے مطابق اقدامات کرے ۔ ہر اسپتال میں موجود عملے کو چاہے وہ خاکروب ہو ، آیا ہو ، نرس ہو یا ڈاکٹر ، اسے عالمی معیار کے مطابق لباس و آلات مہیا کیے جائیں ۔ ہر اسپتال میں صفائی ستھرائی کا خصوصی انتظام کیا جائے ۔ اسپتالوں میں پانی کی فراہمی کویقینی بنایا جائے۔ طبی عملے کو آرام کے لیے ضروری وقفہ لازمی قرار دیا جائے ۔ اسپتالوں میں ہاؤس آفیسرز ، پوسٹ گریجویشن کرنے والے طلبہ اور ریزیڈنٹ میڈیکل افسر کی نائٹ ڈیوٹی لگنے کا مطلب ہے 30 گھنٹے کی مسلسل ڈیوٹی ۔ یہ ظالمانہ طریق کار ہے ۔ اگر ڈاکٹروں کو آرام کا ضروری وقفہ نہیں دیا جائے گا تو ان کی قوت مدافعت ختم ہوجائے گی اور وہ کسی بھی مرض کا آسان ہدف ثابت ہوں گے ۔ ہر شخص کو علم ہونا چاہیے کہ اسپتال وہ مقامات ہیں جہاں پر سب سے زیادہ اور ہر قسم کے جراثیم موجود ہوتے ہیں ۔ اسپتالوں میں ہجوم کا مطلب ہی بیماریوں کو دعوت دینا ہے ۔ ایک مرتبہ پھر سے کراچی میں گٹر ابلنے شروع اور کچرے کے ڈھیر لگنا شروع ہوگئے ہیں ۔ بہتر ہوگا کہ اس طرف ہنگامی بنیادوں پر توجہ کرلی جائے ۔حکومت کو کورونا کے باعث پیدا شدہ صورتحال سے غیر ممالک میں موجود پاکستانیوں کے مسائل کی طرف بھی توجہ دی جانی چاہیے ۔ حکومت نے چین میں موجود پاکستانی طلبہ و طالبات کو تو ملک واپس لانے سے انکار کردیا مگر ایران سے مسلسل آمد جاری ہے ، اب تو ان زائرین کو لینے پی آئی اے کا طیارہ مشہد بھی بھیجا جارہا ہے ۔ دوسری جانب پاک بھارت سرحد بند ہونے کے باعث اٹاری پر پاکستانی خاندان پریشان ہیں ۔ اسی طرح حکومت نے بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں پر ہیلتھ سرٹیفکٹ کی شرط لگادی ہے جس کے باعث وہ لوگ جو اب بھی ملک واپس آسکتے ہیں ، پریشانی کا شکار ہیں ۔ بہتر ہوگا کہ ہیلتھ سرٹیفکٹ کی شرط ختم کرکے جو بھی بیرون ملک سے آئے ، حکومت زائرین کی طرح ان کی بھی اسکریننگ کرکے وطن میں داخل ہونے کی اجازت دے ۔ ایران سے واپس آنے والے زائرین اور دیگر ممالک سے آنے والے پاکستانیوں میں امتیاز کرکے حکومت ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہے ۔