اسلام آباد ہائیکورٹ کا 7 سال سے کم سزا والے قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم

308

اسلام آباد /کراچی(خبر ایجنسیاں/اسٹاف رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے کورونا وائرس کا پھیلائو روکنے کے لیے معمولی جرائم میں ملوث اور7 سال سے کم سزا والے قیدیوں کی رہائی کا حکم جاری کردیا۔ اطلاق ان قیدیوں پر ہوگا جن کے مقدمات اسلام آباد ہائی کورٹ کی حدود میں زیر سماعت
ہیں۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ ان قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کی جائے جو قابل ضمانت مقدمات میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں‘ ضمانت کے لیے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اپنا نمائندہ مقرر کریں‘ قیدیوں کی ضمانت کے بدلے میں حفاظتی مچلکے بھی طلب کیے جاسکتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ضمانت پر رہا قیدی عوام کے جان و مال کے لیے خطرہ نہ ہوں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اڈیالہ جیل میں2174 قیدیوں کی گنجائش موجود ہے لیکن اس وقت5001 قیدی موجود ہیں‘ 1362قیدیوں کے عدالتوں میں ٹرائل زیر التوا ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ایک بھی متاثرہ مریض جیل کے اندر چلا گیا تو جیل میں موجود قیدیوں کو متاثر کرسکتا ہے‘ ایران نے تو جیلوں سے سارے قیدی نکال دیے ہیں‘ خدانخواستہ کسی قیدی کوکورونا ہوگیا تو پھرحالات قابومیں نہیں آئیں گے۔ بیرسٹر جہانگیر جدون نے پوچھا کہ کیا نیب کیسز میں گرفتار ملزمان بھی ضمانت پر رہا ہوں گے؟۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ معاملہ صوبائی حکومت نے دیکھنا ہے‘ جیل میں قید بیمار افراد بالخصوص ایچ آئی وی کے مریضوں کو بھی حکومت ضمانت دے سکتی ہے۔ علاوہ ازیں ملیر جیل سے معمولی جرائم میں ملوث 188 قیدیوں کو رہا کر دیا گیا‘ قیدیوں کو متعلقہ عدالت کے سامنے اعتراف جرم کرنے کے بعد رہا کیا اس سلسلے میں درکار قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے جمعے کو مختلف اضلاع کے ججز نے ملیر جیل کا دورہ کیا اور188 قیدیوں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیے‘ یہ تمام قیدی معمولی جرائم میں ملوث تھے۔