عجائب الخلقت

334

دنیا میں بے شمار ایسے حیوانات ہیں جن کی ساخت اور شکل و صورت دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ہر کچھ عرصے بعد ایسے حیوانات کی قسمیں دریافت ہوتی رہتی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔ ذیل میں ان میں سے چند دریافت شدہ عجائب الخلقت کی تصاویر دی جارہی ہیں۔

1) پِنک فیری آرماڈلو:

ارجنٹینا کے صحراؤں میں پائے جانے والے اس چھوٹے سے جانور کے بارے میں تفصیلات سے سب سے پہلے رچرڈ ہارلن نے 1825 میں سائنسی دنیا کو آگاہ کیا۔ یہ mammal فیملی سے تعلق رکھتا ہے.

2) آئی – آئی:

یہ جانور لیمر (Lemur)  کی نسل سے تعلق رکھتا ہے. آئی-آئی بحیرہ ہند میں ماڈاگیسکر ملک میں پایا جاتا ہے۔ آئی-آئی کی جو خصوصیت باقی ہم نسل لیمرز سے جدا کرتی ہے، وہ ہے اس کے ہاتھوں کی بیچ کی انگلی جو غیر معمولی طور پر باقی انگلیوں سے پتلی ہوتی ہے۔

3) سرخ ہونٹ چمکادڑ مچھلی (Red-lipped batfish):

اس مچھلی کو نام اس کے سرخ ہونٹوں کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ یہ سہی سے تیر نہیں سکتی، اس کی جگہ یہ اپنے تیراکی کیلئے استعمال ہونے والے اعضاء Fins کو سمندری زمین پر چلنے کیلئے استعمال کرتی ہے۔

4) گچھے دار ہرن:

ہرن کی اس چھوٹی قسم کو گچھے دار (Tufted Deer) اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی پیشانی پر بھورے رنگ کے بالوں کو گچھا ہوتا ہے۔ دوسری امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ نر ہرن میں دو نوکیلے دانت منہ سے باہر نکلے ہوئے ہوتے ہیں۔

5) ڈمبو آکٹوپس:

سمندر میں پائے جانے والے آکٹوپس کی ایک قسم ڈمبو آکٹوپس ہے۔ اس کا نام 1941 کی ایک ڈزنی کارٹون فلم ‘ڈمبو’ سے لیا گیا ہے کیونکہ اس آکٹوپس کی ساخت اس فلم کے کردار ڈمبو سے بہت ملتی جلتی ہے۔

6)امبیونا اسپینوسا:

یہ کیڑا جنوبی امریکہ میں پایا جاتا ہے۔ یہ پودوں یا پیڑوں کی ٹہنیوں پر سے اپنی غزا حاصل کرتا ہے۔ اس کی ساخت کا اصل مقصد ابھی تک تحقیق دان اور سائنسدان جان نہیں پائے۔

 

7) برہنہ چھچھوندر (Naked Mole Rat):

بظاہر چوہے جیسا دکھنے والے اس جانور کا تعلق Rodents سے ہے۔ یہ گرم علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ واحد Mammal ہے جس کا خون تقریباً ٹھنڈا ہوتا اور اسے خود کو گرم رکھنے کیلئے خارجی وسائل جیسے سورج، گرم پتھر یا مٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔

8) لیمپرے:

یہ مچھلی قدیم زمانے کی ایک بغیر جبڑے کی مچھلی سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کو لیمپرے ایلز بھی کہا جاتا ہے۔ جب یہ مچھلیاں بڑی ہوجاتی ہیں تو ان کے منہ میں دانتوں کی قطاریں گولائی میں نمایاں ہوجاتی ہیں۔

9) بلوب مچھلی:

یہ مچھلی سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کا جسم جیلی کی طرح ہوتا ہے۔ سمندر کی اتنی زیادہ گہرائی میں سمندر کا بوجھ یعنی پریشر بہت بڑھ جاتا ہے۔ بلوب پچھلی اپنے جیلی جیسے جسم کی بدولت ہی زمینی پریشر سے ہزاروں گنا زیادہ پانی کے بوجھ کو برداشت کر پاتی ہے۔

10) پانڈا چیونٹی:

اس چیونٹی کے رنگ کی وجہ سے ہی اسے پانڈا چیونٹی کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے جسم پر بال بھی ہوتے ہیں۔ یہ ملک چائل میں پائی جاتی ہیں۔ یہ جب بھی کسی سے خطرہ محسوس کرتی ہیں تو یہ اپنا ڈنک مارتی ہے جس سے شدید درد پیدا ہوتا ہے۔