قرنطینہ سینٹرز میں عملے اور سہولتوں کا فقدان ہے،ڈاکٹر آغا تاج محمد

119

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کو نامکمل قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قرنطینہ سینٹرز پر مریضوں اور ڈاکٹروں سمیت عملے کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے عالمی ادارہ صحت کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے حفاظتی کٹس، ادویات، خوراک و رہائش کے بہتر انتظامات کے ساتھ ملکی سطح پر مشاورت کونسل قائم کی جائے، اگر کوئی بھی ڈاکٹر یا طبی عملہ کورونا وائرس سے متاثر ہوا تو اس کی تمام ذمے داری محکمہ صحت حکومت سندھ پر ہوگی۔ یہ مطالبہ پی ایم اے حیدر آباد کے صدر ڈاکٹر آغا تاج محمد نے سابق صدر ڈاکٹر رفیق الحسن کھوکھر، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر زمان بلوچ، ڈاکٹر آغا تاج محمد، ڈاکٹر رفیق قریشی ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کبھی بھی قبل از وقت انتظامات نہیں کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ملک سنگین حالت سے دوچار ہوجاتا ہے کیونکہ حکمران ان حالات پر کنٹرول کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں چین میں پھیلنے والے کورنا وائرس کو روکنے کے لیے انتظامات نہیں کیے گئے اور آج حکمران سمیت عوام کورونا وائرس کے خوف میں مبتلا ہیں۔ افراتفری میں کیے گئے انتظامات کے سبب مریضوں کے ساتھ ڈاکٹرز بھی غیر محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت تیزی کے ساتھ قرنطینہ سینٹرز قائم کررہی ہے لیکن ان میں سہولتوں کے ساتھ عملے کا فقدان ہے۔ مریضوں کے ساتھ ڈاکٹر بھی غیر محفوظ ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹروں سمیت عملے کو کورونا سے بچاؤ کی کوئی تربیت حاصل نہیں، ڈیوٹیوں پر تعینات ڈاکٹر اور عملہ غیر تربیت یافتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے واپسی پر زائرین کو تفتان بارڈر پر ایک ہی جگہ ٹھہرا کر پورے ملک کو غیر محفوظ بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں افراد آج کورونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ وائر سے بچنے کے لیے اسپتالوں میں فلٹر او پی ڈی کا بندوبست کیا جائے۔ پچاس سال سے زائد عمر کے ڈاکٹر اور عملے کی صحت کو مدنظر رکھ کر ڈیوٹی لگائی جائے۔ انہوں نے سندھ حکومت سمیت وفاقی حکومت کو آفر دی کہ پی ایم اے قرنطینہ سینٹرز کے ڈاکٹروں کی تربیت کے لیے تربیت یافتہ ڈاکٹر کی مفت خدمات دینے کو تیار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی ایچ ڈی اور گریجویٹ ڈگری کے حامل ڈاکٹروں کی فوری طور پر قرنطینہ سینٹرز پر ڈیوٹیاں لگائی جائیں اور مشاورت کونسل قائم کرکے پی ایم اے کے نمائندے کو بھی شامل کیا جائے۔ تمام ڈاکٹروں کی بائیو میٹرک اٹینڈننس بند کی جائیں، تمام طبی و نیم طبی ملازمین کو اسی قرنطینہ سینٹر کے قریب رہائش کی مکمل سہولیات دی جائیں۔ تمام ڈاکٹروں کو کورونا کٹس فراہم کی جائیں تاکہ اسپتالوں کے مریضوں کا علاج باآسانی کرسکیں، اگر کوئی بھی ڈاکٹر یا طبی عملہ کورونا وائرس سے متاثر ہوا تو اس کی تمام ذمے داری محکمہ صحت اور حکومت سندھ پر ہوگی۔