ٹنڈوالہٰیار : منافع خوروں نے شہریوں کو لوٹنا شروع کردیا ، انتظامیہ خاموش

42

 

ٹنڈوالہٰیار (نمائندہ جسارت) ٹنڈوالہٰیار سمیت سندھ بھر میں کورونا وائرس کے باعث منافع خوروں نے شہریوں کو لوٹنے کا سلسلہ شروع کردیا، دودھ، دہی اور آٹا من مانی قیمتوں میں فروخت کیا جانے لگا، جبکہ سندھ بھر پرائس کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئیں، ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور مختار کاروں کی جانب سے منافع خوروں کیخلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی نہ ہونے کے باعث شہری اور صارفین منافع خوروں کے ہاتھوں لوٹنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ سندھ کے واضح احکامات کے برعکس ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور مختار کاروں نے منافع خوروں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ اس سلسلے میں مارکیٹ کا سروے کیا تو معلوم ہوا کہ بیشتر دکانوں سے آٹا غائب کردیا گیا ہے اور بلیک مارکیٹنگ کرتے ہوئے چکی کا آٹا 70 روپے کلو جبکہ دودھ 110 روپے کلو اور دہی 160 روپے کلو فروخت کیا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب سندھ بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ بند ہو نے کے سبب جھوٹی گاڑی والوں نے 20 سے 30 کلو میٹر کا کرایہ جو کہ ایک روز قبل 50 روپے تھا گزشتہ روز 200 سے 300 سو روپے وصول کرتے رہے، کوئی بھی ان کو روکنے والا نہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر آفسز میں قائم شکایاتی سیل بھی شہریوں کی داد رسی کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، کیونکہ اسٹاف کی عدم موجودگی کے عوض خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے باعث وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ سندھ نے قوم سے خطاب جبکہ مختلف پریس کانفرنسوں میں دعویٰ کیا تھا کہ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو کسی صورت شہریوں کو لوٹنے نہیں دیا جائے گا اور ضلعی انتظامیہ کو اس ضمن میں واضح احکامات دیے جاچکے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومت شہریوں کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں۔ منافع خوری ہو یا کوئی عوامی مسئلہ میڈیا اور سول سوسائٹی کی آواز کو کوئی سننے کو تیار نہیں ہے، جبکہ تنقید کو جواز بنا کر وفاقی اور صوبائی حکومتیں سوشل میڈیا کا گلہ گھوٹنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ملک کی سول سوسائٹی، میڈیا اور وکلا عوامی حقوق کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔