کاروبار مکمل بند ہونے کی وجہ سے لوگ بیروزگار ہورہے ہیں،کاٹی

158

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی)کے صدر کاٹی شیخ عمر ریحان، سنیٹر عبدالحسیب خان،زبیرچھایا،راشداحمدصدیقی،فرخ مظہر اور ندیم احمدنے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں75بیسزپوائنٹس کی معمولی کمی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرح سود سنگل ڈیجٹ میں ہونا چاہیے تھا اورشرح سود 7فیصد سے زیادہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے ، اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کا اعلان سمجھ سے بالاتر ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اسٹیٹ بینک کی انتظامیہ پاکستان کی انڈسٹری کو ختم کرنے کے در پہ ہے،اسٹیٹ بینک کا صرف 75بیسسز پوائنٹس کی کمی ناقابل قبول ہے،کورونا وائرس کے سبب مزدور طبقہ مسائل میں گھر چکا ہے اس لیے حکومت اس ضمن میں آئی ایم سے ملنے والی امداد میں سے کراچی کے صنعتی ورکرز کے لیے معاشی پیکج کا اعلان کرے ۔ شیخ عمر ریحان نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے شہر لاک ڈائون ہونے کی وجہ سے کراچی سمیت صوبے بھر بھر میں خوراک کی کوئی کمی نہیں، آٹا،چینی، گھی سب کا اسٹاک موجود ہے،ہم سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہیں ،مگر کاروبار مکمل طور پر بند ہونے کی وجہ سے لوگ بیروزگار ہورہے ہیں ، روزانہ اجرت کمانے والے افراد شدید پریشان ہیں،حکومت اسٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لے کر حکمت عملی بنائے،کاٹی کے رہنمائوں نے جمعرات کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک بھی انڈسٹری کے لیے مسائل پیدا کررہا ہے اور پیک آورز کے نام پر اضافی بل بھیج رہا ہے، 50لاکھ روپے والا بل کروڑوں روپے پر پہنچ گیا ہے بلکہ بجلی بلوں کو 100فیصد اضافہ کرکے ہمیں بھیج دیا گیا،کے الیکٹرک نے پیک آورز کے نام پر ہمیں کروڑوں کے بل بھیج دیے ہیں،وزیراعظم، وفاقی وزیر خزانہ، مشیر تجارت اس مسئلہ کو فوری طور پر دیکھیں ورنہ صرف ایکسپورٹ ہی نہیں مجموعی طور پر انڈسٹری سے وابستہ تمام منسلک تجارت متاثر ہوگی۔اسٹیٹ بینک شرح سود میں معمولی کمی واپس لے،دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث بیل اوٹ پیکج دیے جارہے ہیں ہماری حکومت بھی اس جانب قدم بڑھائے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے شہر لاک ڈائون ہونے کی وجہ سے کراچی سمیت صوبے بھر میں خوراک کی کوئی کمی نہیں،ہمارے پاس اسٹاک موجود ہے اور کسی قسم کی پریشانی والی بات نہیں ہے، ہم کورونا وائرس سے متعلق وزیراعظم اور وزیراعلی سندھ کے اقدامات کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کے پاس پیسے ختم ہوچکے ہیں،مارکیٹوں کی بندش اور مزدور پیشہ طبقہ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ ملکی معیشت سست روی کا شکار ہے،صنعتیں مشکلات سے دوچار ہیں لیکن کے الیکٹرک کی جانب سے ہمیں اضافی بل بھیجے جارہے ہیں،مانیٹری پالیسی کے ریٹ میں کمی ہماری سفارشات کے مطابق کی جائے،وزیراعظم فوری طور پر میٹنگ کال کریں اور معاشی ٹیم کے ساتھ شرح سود کے معاملات کوحل کرائیں۔ زبیر چھایا نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مارکیٹس بند ہونے سے معاملات خراب ہوں گے ،عام شہریوں کے ساتھ ساتھ صنعتیں بھی متاثر ہوں گی، صنعتوں کو خام مال اور دیگر اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے، حکومت صنعتوں میں کام جاری رکھنے کے لیے حکمت عملی مرتب کرے ،حکومت کو چاہیے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے۔ صنعتکارندیم احمدنے کہا کہ 14لاکھ کے بجلی کے بل پر 17لاکھ کے اضافے پیک آورز بل لگا دیے گئے،مارکیٹیں بند ہونے سے ہمارا سرمایہ مارکیٹوں میں منجمدہے،ہم ایک پیسے کا اضافی بل جمع کرانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔