پاکستان اسٹاک میں مندی،سرمایہ کاروں کو 83 ارب 22 کروڑ روپے کا نقصان

87

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مندی کا رجحان مسلسل چوتھے روز بھی برقرار رہا اور 1700 سے زائد پوائنٹس کی کمی اور کاروباری معطلی کے بعد صورتحال میں قدرے بہتری آئی لیکن مندی کا رجحان پھر بھی غالب رہا ا اور ٹریڈنگ کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس 286.22پوائنٹس کی کمی سے30129.83پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔شدید مندی باعث سرمایہ کاروں کو83ارب 22کروڑروپے کا نقصان اٹھانا پڑا جب کہ مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت بھی58کھرب82ارب39کروڑ32لاکھ روپے سے گھٹ کر57کھرب99ارب17کروڑ32لاکھ روپے ہوگئی۔نمایاں کاروباری سرگرمیوں کے لحاظ سے کے الیکٹرک، یونٹی فوڈز،بینک آف پنجاب ،فوجی سیمنٹ ،مییپل لیف،ہیسکول پٹرول،لوٹی کیمکل ،ٹی آر جی پاکستان ،حب پاور اورپاک پٹرولیم کے شیئرز سرفہرست رہے ۔ اسٹاک ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کے خطرات کے باعث دنیا بھر کی طرح پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی شدید مندی ریکارڈ کی جارہی ہے جس کے تحت کاروباری ہفتے کے چوتھے روز بھی ٹریڈنگ کے ابتدائی اوقات میں حصص فروخت کا شدید دباؤ دیکھنے میں آیا جس کے پیش نظر اسٹاک مارکیٹ 5فیصد سے زائد گرگئی اور انتظامیہ کو رسک مینجمنٹ قوانین کے تحت ایک بار پھر ٹریڈنگ 45منٹ کے لیے روکنی پڑی واضح رہے کہ رواں ہفتے تیسری مرتبہ اور گزشتہ دو ہفتوں میں چھٹی مرتبہ ٹریڈنگ معطل کی گئی جس کے بعد قدرے بہتری آئی اور آئی ایم ایف کی جانب سے تمام ممالک کو اسٹاک مارکیٹوں کو سہارا دینے کی تجاویز کے پیش نظر ریکوری آئی لیکن مندی کے اثرات مکمل طور پت زائل نہ ہوسکے اور کے ایس ای100انڈیکس 0.94فیصد گرنے کے بعد 30129.83پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا اسی طرح کے ایس ای30انڈیکس 39.49پوائنٹس کی کمی سے 13209.64پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 283.22پوائنٹس کی کمی سے 21685.43 پوائنٹس پر بند ہوا ۔