شامی بچے ایلان کردی کے  قاتلوں کو 125 برس قید

80

انقرہ(آن لائن)ایلان کردی کے قاتلوںکو 125 سال قید،ترکی کی ایک عدالت نے 2015 ء میں جاں بحق ہونے والے معصوم شامی بچے ایلان کردی سمیت 5 افراد کی موت کے ذمے دار 3 ملزمان کو 125 سال قید کی سزا سنادی۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی عدالت نے
تینوں ملزمان کو 125 سال قید کی سزا سنائی اورحکم دیا کہ تینوں کو سزا کے دوران کسی مرحلے پر پیرول پر رہا بھی نہیں کیا جائے گا۔تینوں ملزمان کو ترکی کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے ایک خفیہ آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا۔ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے 2015 ء میں شام سے ایلان کردی کے اہل خانہ کے علاوہ درجن سے زاید افراد کو کینیڈا پہنچانے کا جھانسا دیا تھا لیکن کشتی کے کھلے سمندر میں طوفان کی زد میں آنے کے سبب وہ مسافروں کو تنہا چھوڑ کر سمندر میں کود کر فرار ہوگئے تھے۔ ان تینوں کو انسانی اسمگلنگ کے شواہد سامنے آنے کے بعد سزا سنائی گئی۔خیال رہے کہ 2015ء میں ایلان کی ساحل پر پڑی ہوئی لاش کی تصویر سامنے آنے پر دنیا بھر میں شامی مہاجرین کے لیے آواز اٹھائی گئی تھی جبکہ یورپی ممالک میں ان کو آنے کی اجازت دی گئی تھی، جرمنی نے سب سے زیادہ مہاجرین کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہا تھا۔سرخ ٹی شرٹ اور نیلی نیکر پہنے ایلان کردی ان 12 شامی پناہ گزینوں میں سے ایک تھا جنہوں نے یونان پہنچنے اور وہاں ایک بہتر زندگی کے حصول کے لیے سمندر میں موت کا سفر کیا اور کشتی ڈوب جانے کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔اس حادثے میں ایلان کردی کے والد عبداللہ کردی بھی شامل تھے تاہم وہ محفوظ رہے جبکہ ایلان کا بڑا بھائی 5 سالہ گیلپ اور والدہ بھی اس حادثے میں جان کی بازی ہار گئی تھیں۔یہ تمام مسافر شامی کرد تھے جنہوں نے داعش کے دہشت گردوں کی وجہ سے ترکی میں پناہ لی تھی۔