وبائی امراض اور نبوی تعلیمات

6818

مفتی منیب الرحمٰن
حدیثِ پاک میں ہے: ’’نبی کریمؐ نے فرمایا: کوئی مرض (اپنی ذات سے) مُتعدّی نہیں ہوتا‘‘۔ (بخاری) مریض سے تندرست آدمی میں مرض کے منتقل ہونے کو ’’عُدوٰی‘‘ کہتے ہیں، بعض لوگوں نے اس کا مفہوم یہ لیا ہے کہ کوئی بھی مرض متعدی نہیں ہے اور وہ مہلک امراض سے بچائو کے لیے حفاظتی تدابیر کو توّکل کے خلاف سمجھتے ہیں، یہ فہم درست نہیں ہے۔
رسول اللہ ؐ نے مہلک امراض سے بچاؤکے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تعلیم فرمائی ہے۔ 1۔سیدنا اْسامہ بن زید روایت کرتے ہیں: رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’طاعون ایک صورتِ عذاب ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلی اْمّتوں یا بنی اسرائیل پر مْسلط فرمایا، سو جب کسی جگہ یہ بیماری پھیل جائے، تو وہاںکے لوگ اْس بستی سے باہر نہ جائیں اور جو اْس بستی سے باہر ہیں، وہ اْس میں داخل نہ ہوں‘‘۔ (مسلم) 2۔سیدنا عمرؓ شام کے سفر پر جارہے تھے، سَرغ نامی بستی سے اْن کا گزر ہوا، سیدنا ابوعبیدہ بن جراحؓ اور اْن کے ساتھیوں نے بتایا کہ اِس بستی میں طاعون کی وبا پھیل گئی ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے مہاجرین وانصار صحابہ کرام اور غزوۂ فتحِ مکہ میں شریک اکابرِ قریش سے مشورہ کیا، پھر اجتماعی مشاورت سے اْنہوں نے بستی میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ سیدنا ابو عبیدہ بن جراحؓ نے کہا: امیر المومنین! اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہو، انہوں نے جواب دیا: ہاں! اللہ کی تقدیر سے بھاگ کر اللہ کی تقدیر کی آغوش میں پناہ لے رہا ہوں۔ پھر سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ آئے اور اْنہوں نے کہا: اِس حوالے سے میرے پاس رسول اللہؐ کی ہدایت موجود ہے، آپؐ نے فرمایا: ’’جب تم کسی بستی میں اِس وبا کے بارے میں سنو، تو وہاں نہ جاؤ اور اگر تم پہلے سے وہاں موجود ہو اور یہ وبا پھیل جائے تو وہاں سے بھاگ کر نہ جاؤ‘‘۔ یہ سن کر سیدنا عمر بن خطابؓ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنا سفر آگے کی طرف جاری رکھا‘‘۔ (مسلم، مْلخصاً)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو متعدی وبا سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنی چاہییں اور حفاظتی تدابیر کا اختیار کرنا توکل اور تقدیر پر ایمان کے منافی نہیں ہے، بلکہ توکّل کی حقیقت یہی ہے کہ اسباب کو اختیار کیا جائے، لیکن اَسباب کو مْوثِّر بِالذّات ماننے کے بجائے خداوندِ مْسبّب الاسباب پر ایمان رکھا جائے، کیونکہ اسباب میں تاثیر اْسی نے پیدا کی ہے اور اْسی کے حکم سے یہ موثر ہوتی ہے، تقدیر پر ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے، آپؐ کا فرمان ہے: ’’بیمار کو تندرست سے الگ رکھا جائے‘‘۔ (مسلم) اس میں Unit Isolation کی ہدایت موجود ہے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ وبائی امراض سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، ایک اور موقع پر آپؐ نے فرمایا: ’’جذام کے مریض سے بچو جیسے تم شیر سے بچتے ہو‘‘۔ (بخاری) دوسری حدیث میں ہے: ’’رسول اللہؐ نے جذام کے مریض کو اپنے ساتھ بٹھا کر ایک برتن میں کھانا کھلایا‘‘۔ (ابن ماجہ) آپؐ کے اِس شِعار کا مقصد یہ ہے کہ کسی وبائی مرض میں مبتلا مریض سے احتیاط تو کی جائے، لیکن اْس سے نفرت نہ کی جائے تاکہ اْسے حوصلہ ملے اور اْس کے دل میں احساسِ محرومی پیدا نہ ہو۔ چنانچہ آج بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ڈاکٹر اور طبی عملہ ایسے مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔
حدیث میں یہ فرمان کہ ’’کوئی مرض مُتعدی نہیں ہوتا‘‘، اِس کی شرح میں علامہ نووی لکھتے ہیں: ’’بظاہر اِن حدیثوں میں تعارض ہے کہ ایک جگہ مریض سے بچنے کا حکم ہے اور دوسرا جذام کے مریض کے ساتھ کھانا کھانے کے حوالے سے آپ کا فعلِ مبارک ہے، اس سے کوئی مرض کے متعدی نہ ہونے کا نتیجہ نکال سکتا ہے، اِن حدیثوں میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ امراض میں متعدی ہونے کی تاثیر اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی ہے، لیکن وہ اللہ کی مشیت سے مؤثر ہوتی ہے، کسی چیز میں کوئی تاثیر ذاتی نہیں ہوتی، اگر ایسا ہوتا تو دوا استعمال کرنے والا اور طبیب سے رجوع کرنے والا ہر مریض شفایاب ہوجاتا، لیکن ہمارا مشاہدہ ہے کہ ایسا نہیں ہوتا، پس جس کے لیے اللہ کا حکم ہوتا ہے، اْس کے حق میں ڈاکٹر کی تشخیص درست اور دوا وسیلۂ شفا بن جاتی ہے۔
چنانچہ جب رسول اللہؐ نے مرض کے بذاتہ مْتعدی ہونے کی نفی فرمائی تو ایک اَعرابی نے سوال کیا: یارسول اللہ! اْونٹ ریگستان میں ہرن کی طرح اْچھل کود کر رہے ہوتے ہیں کہ کوئی خارش زَدہ اْونٹ ریوڑ میں گھس جاتا ہے اور اْس کے نتیجے میں سارے اْونٹ خارش کی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں، آپؐ نے فرمایا: پہلے اْونٹ کو خارش کہاں سے لگی‘‘۔ (مسلم) اِس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہؐ نے مرض کے مْتعدی ہونے کی نفی نہیں فرمائی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی طرف مْتوجہ فرمایا اور بتایا کہ عالَم اسباب مْسبِّبْ الاسباب کے حکم کے تابع ہے، لہٰذا تدبیر کے طور پر اسباب کو اختیار کیا جائے، لیکن سب چیزوں کو قادرِ مْطلق کے حکم کے تابع سمجھا جائے۔ محض سبب اور مْسبّب اور علت اور معلول کے تانے بانے کو ہی مؤثرِ حقیقی ماننا الحاد ہے اور ایسے ہی لوگوں کو مْلحد کہا جاتا ہے، الغرض یہ جانور تو ہر دور میں رہے ہیں اور رہیں گے، لیکن ایک خاص موقع پر ایسے وائرس کا پیدا ہونا اور انسانوں میں منتقل ہونا ہر سلیم الفطرت انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تقدیر کی کارفرمائی کو تسلیم کرے۔