پی آئی اے میں ائر مارشل کی بحالی

520

عدالت عظمیٰ نے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وائس چیف آف ائر اسٹاف ائرمارشل ارشد ملک کو عبوری کام کرنے کی اجازت دے دی ہے ۔ ائرمارشل ارشد ملک کی معطلی کا حکم نامہ سندھ ہائی کورٹ نے جاری کیا تھا جسے سپریم کورٹ نے منسوخ کرتے ہوئے انہیں کام کرنے کی اجازت دے دی۔ عدالت عظمیٰ کے اس حکم نامے سے پی آئی اے جیسے اہم ادارے میں بے یقینی ختم ہوگی اور وہاں پر اہم معاملات پر فیصلے کیے جاسکیں گے ۔ کورونا کی وجہ سے پوری دنیا میں ہوابازی کی صنعت بحران کا شکار ہے اور اس کی زدمیں پی آئی اے سمیت پاکستانی فضائی کمپنیاں بھی ہیں ۔ ایسے وقت میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے دیا جانے والا فیصلہ انتہائی اہم ہے ۔ تاہم ائرمارشل ارشد ملک کی قومی فضائی کمپنی میں تعیناتی اور اس کے طریقہ کار پر اب بھی سوالیہ نشانات ہیں ۔عدالت عظمیٰ کے فاضل جج صاحبان گزشتہ سماعتوں کے دوران خود اس کی نشاندہی کرتے رہے ہیں ۔ پی آئی اے کمرشیل ایوی ایشن کا ادارہ ہے اور اس کے سربراہ کے لیے درکار شرائط فوجی ہوابازی کی شرائط سے یکسر مختلف ہیں ۔ فوجی ہوابازی میں نفع نقصان نہیں دیکھا جاتا بلکہ ملک کی حفاظت مقدم ہوتی ہے جبکہ کمرشیل ہوابازی میں نفع نقصان انتہائی اہم ہے ۔ فوجی ہوابازی میں ماتحت عملے کو ہر حکم پر عمل کرنا ہوتا ہے چاہے جان بھی چلی جائے مگر کمرشیل ہوابازی میں ماتحت عملہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج بھی کرتا ہے اور مقدمہ بازی بھی ۔ دنیا بھر میں کہیں بھی فوجی ہوابازی کے سربراہ کو کمرشیل ہوابازی کا سربراہ مقرر نہیں کیا جاتا بلکہ فوجی جہاز چلانے والے کپتان کو شہری ہوابازی میں بطور کپتان بھی شامل نہیں کیا جاتا۔ یہ عجیب و غریب مثال پاکستان میں ہی ہے ۔ ایک بات تو مسلّم ہے کہ ایک فرد کو ائرمارشل کے رینک تک پہنچانے میں ائرفورس کے لاکھوں روپے بلکہ کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں ۔ اگر یہ فرد ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچنے کے بعد بھی کسی کام کا ہے تو اُس سے اُسی کے ادارے میں کام لیا جائے تاکہ وہ اپنے تجربے اور مہارت سے اپنے ادارے کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچائے اور اگر وہ فرد کسی کام کا نہیں ہے تو اسے کسی سویلین ادارے میں جہاں کا اسے کوئی تجربہ یا شدھ بدھ بھی نہیں ہے ،بھیجنے کا مطلب مذکورہ سویلین ادارے کو تباہ کرنا ہے ۔ اسی طرح حاضر سروس فوجی افسران کی کسی سویلین ادارے میں تعیناتی کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ اب فوج کا کام یا تو ختم ہوگیا ہے یا پھر سکڑ گیا ہے جس کی وجہ سے کام کرتے افسران کو کسی اور ادارے میں بھیجا جارہا ہے ۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر فوج میں افسران کی اتنی ہی اسامیاں مستقل طور پر ختم کردی جائیں ۔گزشتہ سماعتوں کے دوران عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان اپنے ریمارکس میں قرار دیتے رہے ہیں کہ ایک شخص دو جگہ پر نوکریاں نہیں کرسکتا، اس لیے ائرمارشل ارشد ملک کو پاک فضائیہ یا پی آئی اے میں سے کسی ایک ادارے کا انتخاب کرلینا چاہیے ۔ اسی طرح یہ بھی کہا گیا کہ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے لیے جو شرائط درکار ہیں ، ان کے مطابق چیف ایگزیکٹو آفیسر کا تقرر کیا جائے ۔ عدالت عظمیٰ کے فاضل جج صاحبان کے یہ ریمارکس خاصے حوصلہ افزا ہیں اور ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ عدالت عظمیٰ کسی بھی دباؤکو خاطر میں لائے بغیر ملک کے ایک اہم ترین ادارے کے سربراہ کی تعیناتی میرٹ پر چاہتی ہے ۔ بات صرف پی آئی اے کے سربراہ کی نہیں ہے بلکہ عدالت عظمیٰ کاپی آئی اے کے بارے میں فیصلہ دیگر اداروں کے لیے نظیر کا کام دے گا جہاں پر اسی طرح کی تقرریاں اور تعیناتیاں کی گئی ہیں ۔ خود پی آئی اے میں صرف چیف ایگزیکٹو آفیسر ہی پاک فضائیہ کے حاضر سروس ملازم نہیں ہیں بلکہ پاک فوج اور پاک فضائیہ کے درجن بھر سے زاید دیگر اور افسران بھی اسی طرح موجود ہیں ۔اصولی طور پر تو عدالت کے ریمارکس کو سمجھتے ہوئے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور دیگر افسران کو خود ہی اپنے ادارے میں واپس لوٹ جانا چاہیے تھا ۔ ہم سمجھتے ہیںکہ معزز عدالت جلد ہی پی آئی اے میں تعیناتی کے بارے میں فیصلہ دے دے گی تاکہ معاملہ حل ہوسکے اور پی آئی اے میں شہری ہوابازی میں ماہر کسی اہل اور تجربے کار شخص کی تعیناتی کی جاسکے گی ۔ اس کے علاوہ پی آئی اے میں سیاسی مداخلت کا بھی خاتمہ کیا جائے گا جو کہ اس اہم ادارے کی تباہی کی اصل وجہ ہے ۔ پی آئی اے کی تباہی کی صرف یہی وجہ نہیں ہے کہ یہاں پر سیاسی بھرتیاں ہیں بلکہ اس کا غلط استعمال بھی ہے۔ کسی اہم شخصیت کو اپنے خاندان کے ہمراہ گلگت گھومنے جانا ہے تو پی آئی اے کا طیارہ استعمال کیا جاتا ہے ۔ کسی کو لندن جانا ہے تو تین تین دن لندن میں پی آئی اے کا طیارہ ان کے انتظار میں خالی کھڑا رہتا ہے ۔ ایسی مثالیں بھی ہیں کہ حکمرانوں کو بھنڈی پسند ہے تو ان کے لیے مراکش میں کھڑے طیارے کے ذریعے بھنڈی منگوائی گئی۔ یہ عیاشی تو عرب ممالک کے بادشاہ بھی نہیں کرتے چہ جائیکہ پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک۔