کاروبار بند اور مہنگائی میں اضافہ

424

کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سرکاری اقدامات کے تحت سندھ میں کاروبار مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے ۔ اس سے بیروزگاری میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے تو فاقہ کشی کا شکار ہوگئے ہیں ۔ حکومت نے یہ سب تو انتہائی مہارت سے فوری طور پر کردیا ہے مگر غریبوں کو فاقہ کشی سے بچانے کے لیے ایک بھی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے ۔ مغرب کے جن ممالک میں لاک ڈاؤن کیا گیا تو وہاں پر شہریوں کی ضروریات کا خیال بھی رکھا جارہا ہے ۔ سندھ کی تو یہ صورتحال ہے کہ پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری یہ بیان تو دیتے ہیں کہ ہم غریبوں کو راشن دیں گے مگر صوبے میں ان کی پارٹی کی حکومت مہنگائی پر قابو تک پانے میں ناکام ہے ۔ اس کام میں عمران خان نیازی کی وفاقی حکومت نے اپنا حصہ ڈال دیا ہے اور یوٹیلٹی اسٹورز پر گھی کی قیمت میں 39 روپے فی کلو اور خوردنی تیل کی قیمت میں 27 روپے فی لیٹر اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے ۔ عمران خان نیازی کی وفاقی حکومت اور بلاول بھٹو زرداری کی سندھ حکومت بتائے کہ کیا عوام ان کے دیے گئے بیانات سے پیٹ بھریں گے ۔ بلاول بھٹو زرداری فرماتے ہیں کہ وہ بیس لاکھ تھیلے راشن کے تقسیم کریں گے ۔ یہ بیس لاکھ تھیلے جس طرح سے تقسیم ہوں گے ، اس کا اندازہ سب کو ہے اور یہ کتنے لوگوں کا پیٹ بھرسکیں گے ، ا س کا بھی سب اندازہ کرسکتے ہیں ۔ تھر میں غریب خواتین کو خوراک و ادویات کے دیے گئے تھیلے سرعام دکانوں پر فروخت ہوتے دیکھے جاسکتے ہیں ، اس کے آئینے میں سمجھا جاسکتا ہے کہ راشن کے تھیلے کس طرح تقسیم ہوں گے ۔عمران خان نیازی اور بلاول زرداری کو سمجھنا چاہیے کہ لوگوں کے گھروں میں راشن پہنچانے میں کرپشن کا دروازہ بھی کھلے گا اور لوگوں کی عزت نفس بھی مجروح ہوگی ۔ اس کے بجائے یوٹیلیٹی اسٹورز پر بنیادی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کو نہ صرف واپس لیا جائے بلکہ ان کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے ۔