قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

534

اور کیا اِن لوگوں نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا کہ ہم ایک بے آب و گیاہ زمین کی طرف پانی بہا لاتے ہیں، اور پھر اسی زمین سے وہ فصل اْگاتے ہیں جس سے ان کے جانوروں کو بھی چارہ ملتا ہے اور یہ خود بھی کھاتے ہیں؟ تو کیا انہیں کچھ نہیں سوجھتا؟۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ’’یہ فیصلہ کب ہو گا اگر تم سچے ہو؟‘‘۔ ان سے کہو ’’فیصلے کے دن ایمان لانا اْن لوگوں کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو گا جنہوں نے کفر کیا ہے اور پھر اْن کو کوئی مہلت نہ ملے گی‘‘۔ اچھا، اِنہیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور انتظار کرو، یہ بھی منتظر ہیں۔ (سورۃ السجدۃ:27تا30)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر جمعہ کی ادائیگی کے لیے آیا، توجہ سے سنا، خاموش رہا، تو اس کے اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک اور مزید 3 دن کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور جس نے کنکری کو چھوا اس نے لغو (بے مقصد) کام کیا۔ (گویا جو فرش کی کنکریوں یا موبائل فون وغیرہ سے کھیل رہا ہے وہ متوجہ نہیں)(مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کسی عذر کے بغیر تین جمعے چھوڑ دیے وہ منافق ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ)