بھارتی آئین سے لفظ ’’سوشلزم‘‘ نکالنے کی قرارداد تیار

157

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں سیکولر ازم اور سوشل ازم پر کئی روز سے جاری بحث کے دوران پارلیمان کے ایوان بالا میں ایک قرارداد پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد ملکی آئین سے لفظ ’’سوشل ازم‘‘ کو نکالنا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ایوان بالا (راجیہ سبھا) کے چیئرمین نے ہندو قوم پرست حکمراں جماعت بی جے پی کے رکن راکیش سنہا کی درخواست منظور کرلی ہے جس میں انہوں نے اجازت طلب کی ہے کہ وہ جمعہ کے روز (آج) قرارداد پیش کریں گے۔ راکیش سنہا کے مطابق موجودہ دور میں سوشل ازم اپنی اہمیت کھو چکا ہے، لہٰذا بھارتی آئین سے اس لفظ کو نکال دینا چاہیے۔ واضح رہے کہ آئین کے مسودے میں بھارت ایک خودمختار، سوشلسٹ، سیکولر اور ڈیموکریٹک جمہوریہ قرار دیا گیا ہے جب کہ حکمراں جماعت اس میں ترمیم کی خواہاں ہے۔ اس سے قبل سیکولر اور سوشلسٹ کا لفظ اندرا گاندھی کے دور میں 42 ویں ترمیم کے طور پر آئین کے مسودے میں شامل کیا گیا تھا جسے ہنگامی طور پر منظور کیا گیا تھا۔ بھارتی آئینی ماہرین کے مطابق مسودے میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کرنا آسان نہیں۔ اس کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے جو فی الوقت ایوان بالا میں حکمراں جماعت کے پاس نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں راکیش سنہا کا کہنا تھا کہ سیکولر ازم پر کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کی ابھی ضرورت ہے، تاہم سوشل ازم اب کسی بھی طرح سے اہم نہیں رہا۔