پاکستان لاک ڈائون کا متحمل نہیں وفاقی حکومت جائزہ لے رہی ہے،گورنر

420

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان میں عوام کی بڑی تعدادیومیہ اجرت پر کام کرتی ہے اور لاک ڈاؤن سے زیادہ تر غریب اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے متاثر ہوںگے اس لیے موجودہ حکومت سمجھتی ہے کہ پاکستان کسی لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے ، وزیراعظم پاکستان تمام صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور وائرس سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے بھرپور اقدامات یقینی بنائے جارہے ہیں۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے قائد اعظم انٹر نیشنل ائر پورٹ پرکورونا وائرس کے کنٹرول کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائز ہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔گورنرسندھ کو ائرپورٹ پر حکام نے وائرس کی تشخیص کے طریقہ کار ، اسکریننگ ، قرنطینہ منتقلی اور اس ضمن میںکیے گئے دیگر اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ گورنر نے کیے گئے انتظامات کو سراہا۔اس موقع پر اراکین سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ ،خرم شیر زمان اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی ڈس انفیکشن ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عاصم محمود خان بھی موجود تھے۔میڈیا سے گفتگو میں گورنرسندھ نے مزید کہا کہ یہ ایک قدرتی آفت ہے جس کے لیے پوری قوم کو متحدہونا پڑے گا اگر کسی کو 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رکھا جارہا ہے تووہ خطرناک نہیں ہے کیونکہ اس کے صحیح ہونے کے مواقع زیادہ ہیں ہمیں اس سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیراختیارکرنی ہوںگی، جس میں دعوتوں ،شادیوں اوردیگر تقریبات سے گریز بالخصوص ہاتھ نہ ملانے کے ساتھ ساتھ صفائی کواہمیت دیناہے،ہم تھوڑی سے احتیاط کرکے اپنے بچوںکومحفوظ بناسکتے ہیں۔ میری قوم سے اپیل ہے کہ وہ گھبرائے نہیں ہم سب ساتھ کھڑے ہیں اور صورت حال کا مقابلہ کریں گے، اس ضمن میں وفاق اپنی پوری کوششوں میں لگا ہوا ہے وفاق کے لیے تمام صوبے برابر ہیں یہ وقت ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے کا نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں گورنرسندھ نے کہا کہ کٹس جو کہ دنیا بھر میں نایاب ہوگئی ہیں فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے لیے احتیاطی تدابیر کے لیے بھرپور اقدامات یقینی بنائے جارہے ہیں اس ضمن میں ائر پورٹ کے بعد شہرکے ریلوے اسٹیشنز سٹی اور کینٹ کو سینیٹائز کیا جائے گا۔