صنعتوں کو بجلی کے لاکھوں روپے کے اضافی بل انڈسٹری کو نقصان پہنچانا ہے ، حافظ نعیم

388

 

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے انڈسٹریل سپورٹ پیکج ایڈجسٹمنٹ (ISPA) کے تحت دی جانے والی سبسڈی کے خاتمے کے بعد کے الیکٹرک کی جانب سے کراچی کے صنعتی علاقوں میں کارخانوں اور فیکٹریوں میں جولائی 2019ء تا دسمبر
2019ء کے واجبات شامل کرکے اچانک لاکھوں روپے کے اضافی بلز بھیجنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارخانوں اور فیکٹریوں کو بجلی کے بھاری بل بھیجنا انڈسٹری کو تباہ کرنے کے مترادف ہے ۔ اچانک لاکھوں روپے کے اضافی بلز سے تاجروں اور صنعت کاروں کے اندر بے چینی و اضطراب پیدا ہو گیا ہے ۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ٹیکسوں کی بھر مار سے کارخانے اور فیکٹریاں چلانا بالخصوص چھوٹے کارخانوں اور کاٹیج انڈسٹری کے لیے پہلے ہی مشکل ہو گیا تھا کہ اب بجلی کے بلز میں لاکھوں روپے اضافے سے صورتحال مزید خراب ہو جائے گی ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صنعتوں کو چلانے اور ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے جاتے بجائے اس کے پہلے سے دیا جانے والا ریلیف اور سبسڈی بھی ختم کردی گئی ہے اور اس مدت کے واجبات وصول کیے جارہے ہیںجو سراسر ظلم وزیادتی ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر اور اقتصادی شہ رگ ہے لیکن افسوس کہ قومی خزانے میں 70فیصد ریونیو دینے والے شہر کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے چھوٹے کارخانوں اور کاٹیج انڈسٹری سے وابستہ صنعتوں کے لیے اچانک بھیجے جانے والے بھاری بلوں کی ادائیگی بہت مشکل ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی چیمبر آف کامرس سمیت کراچی کے تمام انڈسٹریل زونز اور ایسوسی ایشنز نے انڈسٹریل سپورٹ پیکج ایڈجسٹمنٹ (IPSA) کے تحت دی جانے والی سبسڈی کے خاتمے کے 6ماہ بعد کے واجبات کی وصولی کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے اور صنعتوں کو اضافی مالی بوجھ سے بچایا جائے ۔