جبری دکانیں بند کرانے کے دوران پولیس کا رویہ درست نہیں،ہارون میمن

269

سکھر (نمائندہ جسارت) سکھر کی تاجر تنظیموں نے کورونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے سکھر میں ایک ہفتے تک بازار بند کرنے کا اعلان کردیا، آل سکھراسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے بانی و قائد حاجی محمد ہارون میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے کورونا وائرس کے باعث بازار، مارکیٹیں، شاپنگ سینٹرز بند کرنے سے متعلق تاجروں سے کوئی مشاورت نہیں کی اور نہ ہی تاجر تنظیمات کو اعتماد میں لیا گیا تاہم اس کے باوجود سکھر کی 55 سے زائد تاجر تنظیموں کے عہدیداروں نے باہمی مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ سکھر میں فی الحال ایک ہفتے کے لیے بازار بند کیے جائیں گے۔ بعد ازاں صورتحال دیکھ کر مزیدکوئی فیصلہ کیا جائیگا، تاجر سیکرٹریٹ شاہی بازار آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی محمد ہارون میمن کا کہنا تھا کہ کریانہ اسٹورز، کھانے پینے کی اشیا کی دکانیں، میڈیکل اسٹورز کھلے رہیں گے۔ اجلاس میں عامر غوری، خواجہ جلیل احمد، بدر رفیق قریشی، صابر کپتان، حاجی انور وارثی، محمد پناہ سومرو، مولانا عثمان فیضی، لالا عابد کھوکھر، فیاض خان، برکت سولنگی، سید محمود علی، محمد شاہد، نفیس احمد اور حاجی محمد پناہ سومرو و دیگر بھی موجود تھے۔ حاجی محمد ہارون میمن کا کہنا تھا کہ سندھ بھر میں کراچی تا کشمور جبری طور پر دکانیں بند کرانے کے دوران پولیس کا جارحانہ رویہ درست نہیں جبکہ دکاندار از خود دکانیں بند کررہے ہیں تو انتظامیہ کے لوگوں کا غیر اخلاقی طرز عمل ناقابل برداشت ہے۔ علاوہ ازیں سکھر اسمال ٹریڈرزکے صدر حاجی محمد جاوید میمن کی زیر صدارت تاجر سیکرٹریٹ میں منعقدہ اجلاس میں شہر بھر کی تجارتی تنظیموں کے رہنمائوں حاجی غلام شبیر بھٹو، حاجی عبدالستار راجپوت، عبدالقادر شیوانی، محمد زبیر قریشی، رئیس قریشی، بابو فاروقی، شریف ڈاڈا سمیت دیگر تاجر رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں تمام ممبران نے مارکیٹیں بند کرنے کے حکومتی احکامات پر تفصیلی غور خوص کے بعد حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیاگیا کہ صبح 10 سے دوپہر 12 بجے تک جزوی طور پر تجارتی مراکز کھولنے کی اجازت دی جائے۔ تاجروں پر مشتمل 6 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی جو تجارتی مراکز کو جزوی طور پر کھولنے کے حوالے سے انتظامیہ سے ملاقات کرے گی۔ اجلاس میں کورونا کے خاتمے کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔