کراچی: دعا منگی اور بسمہ اغوا کیس میں ملوث 4ملزمان گرفتار

133

کراچی(آن لائن) حساس ادارے اور پولیس نے دعا منگی اور بسمہ اغوا کیس میں 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، آئی ٹی کا ماہر بھی شامل ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق دعا منگی اور بسمہ اغوا کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، جہاں گرفتار اغوا کار کی نشاندہی پر حساس ادارے اور پولیس نے چھاپا مارکارروائی کرتے ہوئے اغوا کارگروہ کے 4کارندوں کو گرفتار کرلیا ہے، چھاپے کراچی،راولپنڈی اور سندھ کے دیگر شہروں میں مارے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان میں آئی ٹی کا ماہر شخص شامل ہے،ملزم کو پراکسی اور وی پی این نمبرز استعمال کرنے میں مہارت حاصل ہے،ملزمان وی پی این نمبرز کے ذریعے ہی تاوان کا مطالبہ کرتے تھے۔ذرائع کے مطابق واردات کے دوران گاڑی کو بیک اپ فراہم کرنیوالا ملزم بھی شامل ہے، جبکہ مرکزی کردار ایک پولیس افسر آغا منصور تھے جو شہر میں دیگر اغوا کی وارداتوںمیں بھی ملوث رہا ہے۔ آغا منصور اے وی ایل سی میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر تھے جنہیں برطرف کردیا گیا ہے۔ ملزمان کے گروہ میں نوجوان لڑکیاں بھی شامل ہیں ،ان لڑکیوں کو اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں سہولت کار کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ بسمہ اور دعا منگی اغوا کی واردات میں 5 ملزمان شامل تھے،2 کو گرفتار کیا گیا ہے جن کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔ ملزمان نے ایک سال قبل کلفٹن میں فلیٹ کرائے پر لیا تھا، بسمہ اور دعا دونوں کو کلفٹن بلاک 2 کے فلیٹ رکھا گیاتھا۔ انہوںنیمزید بتایا کہ مفرر ملزمان کے سروں کی قیمت 50 لاکھ روپے رکھی جائے گی، گرفتار ملزمان میں مظفر اور زوہیب شامل ہیں۔اس واردات میں ایک پولیس افسر بھی ملوث ہے جسے برطرف کردیا گیا ہے۔غلام نبی میمن نے کہا کہ بازیاب ہونے والی لڑکیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔