پاکستان میں کورونا وائرس پی آئی اے اور وفاقی حکومت کی نااہلی سے آیا ،چیف جسٹس

107

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ کورونا وائرس بیرون ملک سے وفاقی حکومت اور پی آئی اے کی نااہلی کی وجہ سے آیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے سی ای او پی آئی اے ائر مارشل ارشد ملک کی تعیناتی سے متعلق کیس پر سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہر برا کام ائر پورٹ پر جاری ہے، ائرپورٹ پر کسٹم اور ایف آئی اے سمیت تمام ادارے مافیا ہیں، ائرپورٹ پراداروں کے لوگ عام عوام کی تضحیک کے لیے بیٹھے ہیں، کوئی ایک اچھی چیزبتادیں جوعوام کے حق میں کی گئی ہو، کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں، اس وقت ہر جگہ ملک میں کورونا کی بات ہو رہی ہے، کورونا وائرس بارڈر اور ائرپورٹس کے ذریعے ملک میں آیا ہے، اس وائرس کے تدارک کے لیے اداروں میں بیٹھے لوگوں نے کیا کیا؟ اگر سیکورٹی کا یہ حال رہا تو کون کون سی بیماریاں ملک میں آجائیں گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہی ہے کیا اس کو بند کردیں، اس ادارے کے بارے ایک چیز بتائیں جو اچھی ہو، کراچی ائرپورٹ پر خستہ اور خراب حالات میں جہاز کھڑے ہیں ،حادثہ ہوگیا تو کیا ہوگا ،گند نظر آتا ہے ، لوگوں کو سہولیات دینے میں مکمل ناکام ہوگئے ہیں ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لندن میں طیارہ کس کے خرچ پر کھڑا رہا،جس نے گلگت گھومنا ہووہ خاندان کے ساتھ جہاز لے کر چلا جاتا ہے،جس نے کہیں اور جانا ہو وہ جہاز کا رخ بدلوادیتا ہے۔عدالت عظمیٰ نے ائر مارشل ارشد ملک کو بطور سی ای او پی آئی اے بحال کرتے ہوئے عبوری طور پر کام کی اجازت دے دی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر ائر مارشل ارشد ملک ، پی آئی اے انتظامیہ اور یونین عہدیداروں کو طلب کر لیا۔ عدالت نے پی آئی اے سے ارشد ملک کے دیے گئے ٹھیکوں کی تفصیلات بھی طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ انتظامیہ آگاہ کرے کن ٹھیکوں کا جاری رہنا ضروری ہے، کیس کی مزید سماعت 20 اپریل کو ہوگی۔