سول جج پر زیادتی کا الزام لگانیوالی خاتون بیان سے منحرف

140

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک ) خاتون سلمیٰ بروہی نے عدالت میں پیشی کے دوران کہا کہ میں نے غصے میں جج پر زیادتی کا الزام لگایا، میرے ساتھ زیادتی نہیں ہوئی۔تفصیلات کے مطابق سیہون کے عدالتی چیمبر میں خاتون سلمیٰ بروہی سے مبینہ زیادتی کیس نیا موڑ اختیار کر گیا ہے۔ متاثرہ خاتون سیکنڈ سول جج عبدالواحد راہو کی عدالت میں پیش ہوئی جہاں بیان دیتے ہوئے وہ اپنے پہلے بیان سے مکر گئی۔سلمیٰ بروہی نے عدالت کو دوسرا بیان دیتے ہوئے کہا کہ سیہون پولیس ریسٹ ہاؤس سے پولیس اسٹیشن لے گئی،عدالت میں پیش کردیا۔ سول جج والدین کے پاس بھیج رہا تھا تو مجھے غصہ آ گیا، میرے ساتھ کسی نے زیادتی نہیں کی، جج پر غصے میںغلط الزام لگائے۔سماعت کے دوران خاتون سلمیٰ بروہی کی فیملی اور معطل سول جج امتیاز بھٹو بھی عدالت میں موجود رہے۔ خیال رہے کہ خاتون سلمیٰ بروہی نے جج امتیاز بھٹو پر زیادتی کا الزام لگایا تھا جس کے بعد جج امتیاز بھٹو کیخلاف تھانہ سیہون میں 22 جنوری کو مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔