عدالت عظمیٰ نے راؤ انوار کیخلاف جوڈیشل کمیشن بنانے کی اپیل نمٹادی

159

اسلام آباد (آن لائن) عدالت عظمیٰ نے راؤ انوار کیخلاف 444 ماورائے عدالت قتل پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر کیس نمٹا دیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔ دران سماعت درخواست گزار کے وکیل فیصل صدیقی نے موقف اپنایا کہ 444 قتل کی بات سندھ پولیس کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے، تمام ریکارڈ بھی سندھ پولیس کے پاس ہے۔ عدالت نوٹس جاری کر سکتی ہے۔ عدالت معاملے پر انکوائری کرائے سب سامنے آ جائے گا۔ جسٹس مشیر عالم نے اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی درخواست گزار ماورائے عدالت قتل کا براہ راست متاثرہ ہے؟ راؤ انوار گرفتار ہوئے، ٹرائل چل رہا ہے۔ عدالت اب مزید کیا کرے؟ رائو انوار پر 444 ماورائے عدالت قتل کا کیا ثبوت ہے؟ کیا درخواست گزاروں کو قتل ہونے والوں کے نام پتا ہیں؟ مبینہ طور پر قتل ہونے والوں کے نام تک آپ کو معلوم نہیں، مرنے والوں کا اتنا درد ہے تو نام بھی پتا ہونا چاہیے تھے۔ معاملے پر سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا؟ عوامی مفاد کا کیس تب ہوتا جب متاثرہ افراد خود سامنے آتے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ فوجداری مقدمات میں اعلیٰ عدلیہ کو احتیاط سے کام لینا چاہیے، اعلیٰ عدلیہ کی آبزرویشنز سے فوجداری کیس پر بہت اثر پڑتا ہے۔ بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر معاملہ نمٹادیا ہے۔