چین کا 3 اخبارات کے صحافی بے دخل کرنے کا اعلان

214

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین نے امریکا کے 3 بڑے اخبارات سے وابستہ امریکی صحافیوں کو ملک سے بے دخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بیجنگ نے اپنے اس اقدام کو جوابی کارروائی قرار دیا ہے۔ چین نے جن اخبارات کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے، ان میں نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل شامل ہیں، جو امریکا کے بڑے اخبارات میں شمار ہوتے ہیں۔ چین میں غیر ملکی نمایندگان کے ایک کلب نے بیجنگ کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے کم از کم 13 صحافی متاثر ہوں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان کرونا وائرس کے سبب پیدا ہونے والے بحران کے بعد سے میڈیا کی آزادی سے متعلق چپقلش میں بھی شدت آ گئی ہے۔ چین کے حکام نے کہا ہے کہ مذکورہ تینوں اخبارات سے وابستہ چین میں مقیم ان امریکی صحافیوں کو اپنے صحافتی اجازت نامے اور دستاویزات آیندہ 10 روز میں بیجنگ حکام کے حوالے کرنا ہوں گے، جن کی دستاویزات کی میعاد رواں برس کے آخر میں ختم ہو رہی ہے۔ چین نے کہا ہے کہ بے دخلی کا سامنا کرنے والے امریکی صحافیوں کو چین کے زیرانتظام خود مختار علاقوں ہانگ کانگ یا مکاؤ میں بھی کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تنازع کا آغاز گزشتہ ماہ اس وقت ہوا تھا جب وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے ایک کالم پر چین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اخبار سے وابستہ امریکا کے 2 اور آسٹریلیا کے ایک صحافی کو ملک سے بے دخل کر دیا تھا۔ امریکا نے چین کے اس اقدام کے خلاف امریکا میں چین کی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ذرائع ابلاغ کے اداروں کے صحافیوں کی تعداد 160 سے کم کر کے 100 کر دی تھی۔ واشنگٹن نے امریکا میں کام کرنے والے چین کے سرکاری میڈیا کو بطور سفارتی تنصیب رجسٹرڈ کرانے کا بھی حکم دیا تھا، جس پر چین نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔ چین نے بدھ کے روز ایک بیان میں تینوں امریکی اخبارات کے امریکی نمایندوں سے متعلق اپنے حالیہ فیصلے کو امریکی اقدامات کا ردِ عمل قرار دیا ہے۔ساتھ ہی امریکی ٹائم میگزین اور وائس آف امریکا کو بھی نئے احکامات دیے ہیں۔